عمران خان کی رہائی کیلئے تحریک چلائی جائے، کے پی میں ناراض ارکان اسمبلی کا بیرسٹر گوہر کو خط

قید پارٹی ورکرز کی رہائی کے قانونی جنگ لڑی جائے، میرٹ سے انحراف، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ختم کی جائے، خط


وقائع نگار June 01, 2026

پشاور:

خیبرپختونخو اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان نے پارٹی اور حکومتی معاملات پر مرکزی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے موثر تحریک چلائی جائے، قید پارٹی ورکرز کی رہائی کے قانونی جنگ لڑی جائے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خط میں حکومتی معاملات میں غیر متعلقہ افراد کی مداخلت، میرٹ سے انحراف، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور حلقوں میں متعلقہ اراکینِ صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور ترقیاتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں مناسب مشاورت نہ ہونے کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

اس حوالے سے حکومتی جماعت پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کا اجلاس پشاور میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی اور حکومتی کے حوالے سے مرکزی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط لکھا جائے جس کے بعد ناراض ارکان نے لمبا چوڑا خط لکھ بھیجا۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے متعدد اراکینِ صوبائی اسمبلی کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی جانب سے اراکینِ اسمبلی کو مختلف گروپوں یا شخصیات سے منسوب کرکے ایک غلط تاثر پیش کیا جا رہا ہے۔

اجلاس نے واضح کیا کہ تمام اراکینِ اسمبلی پاکستان تحریک انصاف کے نظریے، منشور اور عمران خان کے وژن کے پابند ہیں وہ کسی گروہ، دھڑے یا شخصیت کے ایجنڈے پر کام نہیں کررہے اور نہ ہی خود کو کسی مخصوص گروپ سے منسوب کرتے ہیں۔

خط کے مطابق اجلاس میں عمران خان کی مسلسل قید، علاج و معالجہ، اہلِ خانہ، وکلاء اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے ایک مثبت، جامع، مؤثر اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

خط میں سفارش کی گئی ہے کہ عمران خان کے ساتھ ساتھ پارٹی کے سیکڑوں رہنما اور کارکنان بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں ان کی رہائی، قانونی معاونت، اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود اور دیگر ضروری معاملات کے لیے ایک جامع اور منظم لائحۂ عمل مرتب کیا جائے، تحریک کو مؤثر، منظم اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ازسرِنو حکمتِ عملی مرتب کی جائے، عمران خان، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے مقدمات کی پیروی کے لیے ایک مربوط، فعال اور مؤثر قانونی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ کارکنان اور عوام کو پارٹی کی سنجیدگی اور عزم کا واضح پیغام مل سکے۔

اجلاس میں صوبائی حکومتی معاملات میں غیر متعلقہ افراد کی مداخلت، میرٹ سے انحراف، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور حلقوں میں متعلقہ اراکینِ صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور ترقیاتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں مناسب مشاورت نہ ہونے کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ تمام حکومتی امور شفافیت، میرٹ، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور منتخب عوامی نمائندوں کی مشاورت کے مطابق انجام دیے جائیں۔

آخر میں اجلاس کے شرکاء نے پارٹی قیادت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ عمران خان کی رہائی، پارٹی کارکنان کے تحفظ، سیاسی چیلنجز سے نمٹنے اور خیبر پختونخوا میں مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے ایک جامع، قابلِ عمل اور فیصلہ کن حکمتِ عملی مرتب کی جائے تاکہ پارٹی اور اس کی قیادت کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔