امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں سے روک دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور حزب اللہ کے نمائندوں سے رابطوں کے بعد لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت حاصل کرلی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نیتن یاہو کے ساتھ بہت نتیجہ خیز گفتگو ہوئی جس کے بعد یہ طے پایا کہ اسرائیلی فوج بیروت میں داخل نہیں ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے بیروت جانے والے اپنے تمام فوجیوں کو واپس آنے کا حکم دیدیا ہے اور مزید کوئی فوجی وہاں نہیں جائے گا۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بات چیت کی جس میں حزب اللہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ بھی حملے روک دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود اسرائیلی حکومت یا حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ چند گھنٹے قبل نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو بیروت کے جنوبی علاقے داحیہ میں حملوں کا حکم دیا تھا جو حزب اللہ کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور شمالی اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جس کے جواب میں ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی مذاکرات معطل کرنے کا اشارہ دیا تھا۔