سنجیدہ اور غیر سنجیدہ کرپشن

نیب کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق ملک میں کرپشن کی شکایات میں مسلسل کمی ریکارڈ ہوئی ہے


[email protected]

نیب کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق ملک میں کرپشن کی شکایات میں مسلسل کمی ریکارڈ ہوئی ہے جس کا ثبوت یہ دیا گیا ہے کہ ایک سال میں نیب کو 23 ہزار 411 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 23 ہزار 208 کو نمٹا دیا گیا جب کہ صرف 123 شکایات کارروائی کے قابل قرار پائیں۔ نیب کے مطابق ایک سال کے دوران 7705 شکایات کو غیر سنجیدہ قرار دے کر خارج کیا گیا جب کہ 15 ہزار دو سو تیس شکایات ایسے مقدمات سے متعلق تھیں جن پر پہلے ہی کارروائی جاری تھی۔

نیب کو موصول شکایات میں صرف 123 شکایات کارروائی کے قابل پائی گئیں جن میں 92 کو برائے راست انکوائری جب کہ 21 کو انوسٹی گیشن کے لیے منظور کیا گیا۔ نیب کے مطابق 2026 میں ایک ہزار ایک سو چوالیس اور 2023 میں 1061 شکایات قابل سماعت موصول ہوئی تھیں۔ نیب رپورٹ کے مطابق پہلے سے موجود 128 شکایات کو باقاعدہ انکوائری میں تبدیل کیا گیا جب کہ 207 کیسز مکمل اور ڈیڑھ سو پر کارروائی جاری ہے۔

رپورٹ میں سال 2024 کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی ملک میں کرپشن کی شکایات میں مسلسل کمی ریکارڈ ہونے کا ذکر ہے صرف اخباری سرخی میں کرپشن میں مسلسل کمی کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک اندازہ ہے جو کاش درست ہوتا تو عوام کو واقعی حیرت ہوتی کہ ہم کرپشن میں گردنوں تک ڈوبے ہوئے ملک میں کرپشن شکایات میں مسلسل کمی کے بعد کرپشن سے پاک صاف و شفاف ملکوں کی فہرست میں آگئے ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے ورنہ مطالبہ شروع ہو جاتا کہ واقعی کرپشن میں مسلسل کمی ہو رہی ہے تو وفاق میں نیب اور صوبوں میں محکمہ اینٹی کرپشن کی ضرورت ہی کیا ہے اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔

سندھ حکومت کی خاص بات یہ ہے کہ وہ کبھی سندھ اسمبلی میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رکن کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ نہیں بناتی جب کہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلیوں میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی پی ٹی آئی کو دی گئی تھی اور اصولی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے اور یہ کمیٹیاں اپوزیشن رہنما کی سربراہی میں کرپشن کی نشان دہی کرنے تک ہی محدود ہوتی ہیں انھیں ایکشن لینے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہوتا۔

نیب کی سالانہ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ یوں تو نیب کو کرپشن کی ہزاروں شکایات موصول ہوتی ہیں اور ان میں بہت زیادہ تعداد غیر سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہے جنھیں دیکھنے کے بعد نیب صرف سنجیدہ شکایات کو تحقیقات کے بعد قابل سماعت قرار دیتا ہے۔ نیب کا اپنا طریقہ کار ہے جس کے مطابق وہ کرپشن کی صرف سنجیدہ شکایات پر ایکشن لیتا ہے۔ ویسے بھی اب نیب پہلے جیسا بااختیار ادارہ نہیں ہے اس کے پر کافی حد تک اس حکومت میں شامل ان بڑی پارٹیوں نے کاٹے ہیں جو پی ٹی آئی حکومت میں اس وقت کے چیئرمین کا نشانہ بنے تھے جنھوں نے اب نیب کو پہلے جیسا بااختیار نہیں رکھا۔

نئے قوانین کے تحت پچاس کروڑ روپے کی رشوت کا کوئی بڑا کیس سامنے آئے تو نیب حرکت میں آتا ہے۔ نیب کے اختیارات محدود کرنے والے پچاس کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن سمجھتے ہیں اور اس سے کم کی کرپشن کو کرپشن نہیں سمجھتے اس لیے پچاس کروڑ سے زیادہ رقم کی کرپشن کو نیب سنجیدہ کرپشن سمجھ کر اپنا کام شروع کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیب رپورٹ کے مطابق ملک میں کرپشن کی شکایات میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔

جنرل پرویز دور کی ضلعی حکومتوں کے نظام میں ان کے لیے اسلام آباد میں قومی تعمیر نو بیورو بنا تھا جس کے ارکان میں 22 گریڈ کے افسران شامل تھے۔ اس بیورو کے دو ارکان سے راقم کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت پاکستان کی ہر یونین کونسل کو ماہانہ دو لاکھ روپے حکومت سے ملتے تھے جب کہ یوسی کی آمدنی کے سرکاری ذرائع الگ تھے۔ دونوں فاضل ارکان کا کہنا تھا کہ اگر ہر یوسی میں دو لاکھ میں سے صرف 20 فی صد رقم بھی تعمیری کاموں پر خرچ ہو تو وہ کام نظر آئے۔ اس انکشاف پر راقم نے پوچھا تھا کہ کیا 80 فی صد رقم کرپشن کی نذر ہو رہی ہے جس کی تصدیق دونوں ارکان نے کی تھی۔

حکومت کی نظر میں 50 کروڑ کی کرپشن کرپشن نہیں اور سرکاری طور ملنے والی رقوم سے اگر صرف 20 فی صد ہی شفاف خرچ ہو تو کام نظر آتے ہیں اور 80 فی صد رقم کھا جانے والوں کی کرپشن کرپشن نہیں ہے تو نیب کو بہت کم تعداد میں ملنے والی سنجیدہ شکایات پر ہی انکوائری کا اختیار ہے تو بہتر ہے کہ موجودہ حکومتیں کرپشن کو ہی قانونی قرار دے دیں اور ملک سے کرپشن روکنے اور احتساب کے ادارے ہی ختم کر دیے جائیں۔ ملک میں ویسے ہی غیر سنجیدہ کرپشن عروج پر ہے کیونکہ کسی سرکاری دفتر میں رشوت کے بغیر کوئی بھی کام نہیں ہوتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ رشوت دے کر اور لے کر جو کرپشن ہوتی ہے اس کا علم ان دونوں کے علاوہ کسی اور کو ہو ہی نہیں سکتا تو وہ کرپشن غیر سنجیدہ ہی قرار پائے گی۔