شاہ چارلس کے کینسر کا علاج جاری، شہزادہ ولیم نے ’شیڈو کنگ‘ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

مبصرین کے مطابق وہ عملی طور پر بادشاہت کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں


ویب ڈیسک June 03, 2026

لندن: برطانوی بادشاہ شاہ چارلس سوم کی کینسر کے خلاف جاری علاج کے دوران شہزادہ ولیم نے شاہی ذمہ داریوں میں نمایاں طور پر اضافہ کر دیا ہے اور اہم ریاستی و شاہی امور سنبھالنا شروع کر دیے ہیں۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ چارلس طبی علاج کے باعث اپنی عوامی مصروفیات محدود کر رہے ہیں، جس کے بعد شہزادہ ولیم شاہی خاندان کے روزمرہ فرائض اور اہم تقریبات میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق وہ عملی طور پر بادشاہت کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

41 سالہ شہزادہ ولیم نہ صرف سرکاری شاہی ذمہ داریوں میں مصروف ہیں بلکہ وہ اپنی نجی زندگی میں بھی خاندان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بعض مبصرین انہیں غیر رسمی طور پر ’شیڈو کنگ‘ کے طور پر بھی دیکھنے لگے ہیں۔

اس سے قبل شہزادی کیٹ مڈلٹن کی سرجری اور صحتیابی کے دوران شہزادہ ولیم نے کچھ عرصے کے لیے عوامی سرگرمیوں سے وقفہ لیا تھا تاکہ وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ وقت گزار سکیں، تاہم اب وہ دوبارہ مکمل طور پر شاہی فرائض میں متحرک ہو چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق شہزادہ ولیم ونڈسر کیسل میں اہم تقریبات کی قیادت کر رہے ہیں اور مختلف قومی و سرکاری ایونٹس میں شاہی خاندان کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں۔

شاہی تاریخ کی ماہر پروفیسر چندریکا کول کا کہنا ہے کہ شہزادہ ولیم بطور ’پرنس آف ویلز‘ اپنی الگ اور مضبوط شناخت قائم کر رہے ہیں اور عوام میں انہیں مستقبل کے بادشاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب شاہ چارلس اگرچہ عوامی اجتماعات میں کم نظر آ رہے ہیں، تاہم وہ ریاستی امور میں پس پردہ کردار ادا کر رہے ہیں، اہم سرکاری دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں اور وزیرِاعظم کے ساتھ بریفنگز میں بھی شریک ہیں۔

شاہی خاندان کے دیگر سینئر اراکین، جن میں ملکہ کمیلا اور شہزادی این شامل ہیں، نے بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں تاکہ شاہی نظام کی فعالیت متاثر نہ ہو۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ صحتی مسائل کے دوران شاہی خاندان کے اندرونی روابط بھی مزید مضبوط ہوئے ہیں، اور شہزادہ ہیری نے بھی اپنے والد سے ملاقات کے لیے برطانیہ کا دورہ کیا تھا۔