دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس جوانوں کو خیبرپختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار پلاٹ فراہم کر دیے گئے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے جولائی 2025 سے اب تک شہادت نوش کرنے والے پولیس کے بہادر جوانوں و افسران کو پشاور میں منعقدہ تقریب میں پولیس شہداکے ورثا میں رہائشی پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کیے، جس کی سمری صوبائی حکومت کو بھجوائی گئی تھی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی ذوالفقار حمید نے کہا کہ شہداکے خاندانوں کی فلاح و بہبود و دیکھ بھال صرف ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی، اخلاقی اور دینی فریضہ ہے، قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کا قرض کبھی ادا نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کے اہل خانہ کی عزت، وقار، فلاح اور مستقبل کا تحفظ ہر موقع پر ہماری اولین ترجیح رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس پاکستان کی سب سے زیادہ آزمودہ، بہادر اور قربانیاں دینے والی فورس ہے، جو گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار انتہائی جرات و دلیری سے ادا کر رہی ہے، اس جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ہے اور آج بھی ہمارے جوان انتہائی نامساعد حالات میں غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال استقامت کے ساتھ ریاست کی پہلی دفاعی لکیر بنے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز ملک کے دیگر حصوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں، ہمارے عوام بھی بہادر ہیں اور ہماری پولیس بھی نڈر ہے، یہی وجہ ہے کہ شدید ترین حملوں، سازشوں اور قربانیوں کے باوجود خیبرپختونخوا پولیس کبھی میدان چھوڑ کر پیٹھ نہیں دکھائی۔
آئی جی پی نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں کو پنجاب پولیس کے برابر لانے کا تاریخی اقدام فورس کی قربانیوں کے اعتراف کا عملی ثبوت ہے تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ پولیس شہیدپیکیج میں رہائشی سہولیات اور دیگر فلاحی مراعات میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اسی مقصد کے لیے ایک جامع ویلفیئر اصلاحاتی پروگرام پر کام جاری ہے تاکہ شہداکے خاندانوں اور حاضر سروس اہلکاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہر شہید کے خاندان کو باعزت اور محفوظ رہائش فراہم ہوسکے، خواہ یہ تیار شدہ مکانات کی صورت میں ہو یا ایسی مالی معاونت کے ذریعے جس سے وہ اپنی پسند کی جگہ پر گھر حاصل کر سکیں۔
آئی جی پی خیبرپختونخوا نے انکشاف کیا کہ دہشت گرد عناصر اب ضم شدہ اضلاع میں پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو بھی نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں اور کہا کہ پولیس خاندانوں کے تحفظ کا معاملہ حکومت کے سامنے بھرپور انداز میں اٹھایا گیا ہے اور اس ضمن میں ضروری حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی فلاح و بہبود، جدید تربیت، طبی سہولیات، رہائشی منصوبوں اور این ایم ڈیز اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے متعدد منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے اور اس میں وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کا ہمارے ساتھ بھر پور سرپرستی اور تعاون حاصل ہے۔
قبل ازیں آئی جی ذوالفقار حمید نے شہدا کے 67 خاندانوں میں پلاٹ الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کیے اور کامیاب تقریب کے انعقاد پر پولیس کی ٹیم ورک کی کوششوں کو سراہا، تقریب کے دوران شہدا کے ورثا نے صوبائی حکومت اور پولیس قیادت کی جانب سے کیے جانے والے فلاحی اقدامات پر بھر پور اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے پیاروں کی قربانیاں ساری قوم کے لیے مشعل راہ رہیں گی۔