ایران کیساتھ جنگ بندی معاہدہ؛ صدر ٹرمپ نے پھر نئی تاریخ بتا دی

امریکا دو یا تین ہفتے مزید کارروائی جاری رکھ کر ایران میں سب کچھ تباہ کر سکتا ہے لیکن یہ ترجیح نہیں، ٹرمپ


ویب ڈیسک June 03, 2026
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کیساتھ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات مثبت سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کی نئی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا اب ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور یہ آئندہ چند دنوں حتیٰ کہ اسی ہفتے کے اختتام تک بھی طے پا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات میں کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کا سب سے زیادہ غیر مستحکم خطہ ہے۔

امریکی صدر کے بقول خطے کی صورتحال پیچیدہ ہے لیکن اس کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت حوصلہ افزا انداز میں جاری ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ ایران کا یہ وعدہ ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا نہ اس کی تیاری کرے گا اور نہ ہی اسے خریدنے کی کوشش کرے گا۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر امریکی فوجی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا چاہے تو چند ہفتوں میں مزید فوجی کارروائیاں کر سکتا ہے۔

ان کے بقول امریکا دو یا تین ہفتے مزید کارروائی جاری رکھ کر سب کچھ تباہ کر سکتے ہیں تاہم وہ اس راستے کو ترجیح نہیں دیتے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ مسئلہ جنگ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل ہو اور ایک تحریری معاہدے کے ذریعے وہی نتائج حاصل کیے جائیں جو فوجی کارروائی سے حاصل ہو سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول امریکی انتظامیہ کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کو مذاکرات اور معاہدے کے ذریعے ختم کیا جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔