جرمنی کو اسرائیل کی حمایت مہنگی پڑ گئی، سلامتی کونسل کی نشست ہاتھ سے نکل گئی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں جرمنی کو 193 رکن ممالک میں سے 104 ووٹ ملے


ویب ڈیسک June 04, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لیے ہونے والے انتخاب میں جرمنی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پرتگال اور آسٹریا نے زیادہ ووٹ حاصل کرکے یورپی ممالک کے لیے مختص دو نشستیں اپنے نام کرلیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں جرمنی کو 193 رکن ممالک میں سے 104 ووٹ ملے، جبکہ پرتگال نے 134 اور آسٹریا نے 131 ووٹ حاصل کیے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک سلامتی کونسل کے رکن منتخب ہوگئے۔

انتخابی نتائج کے بعد جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈفل نے کہا کہ یوکرین اور اسرائیل کے حوالے سے جرمنی کے واضح مؤقف نے ممکنہ طور پر بعض ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں رکاوٹ پیدا کی۔

جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جرمنی نے ہمیشہ اہم بین الاقوامی معاملات پر کھل کر اپنا مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم تمام رکن ممالک ان پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں اسرائیل کے لیے جرمنی کی خصوصی تاریخی ذمہ داری شاید کچھ ووٹوں کے نقصان کا سبب بنی ہو۔

جرمنی اس سے قبل سلامتی کونسل کا چھ مرتبہ رکن رہ چکا ہے، تاہم اس بار وہ مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

دوسری جانب افریقی خطے کی نمائندگی کے لیے زمبابوے اور کیریبین خطے کی نمائندگی کے لیے ٹرینیداد اور ٹوباگو بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔

ایشیائی نشست کے لیے ہونے والے مقابلے میں کرغزستان نے فلپائن کو 49 کے مقابلے میں 143 ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔

منتخب ہونے والے تمام نئے ممالک جنوری 2027 سے دو سالہ مدت کے لیے سلامتی کونسل کے رکن بن جائیں گے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مجموعی طور پر 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں پانچ مستقل ارکان امریکا، چین، برطانیہ، فرانس اور روس شامل ہیں، جبکہ باقی 10 نشستیں مختلف خطوں کی نمائندگی کے لیے محدود مدت کے لیے منتخب کی جاتی ہیں۔