امریکا ایران معاہدہ: دو بڑی رکاوٹیں

عالمی امن کا ضامن سپرپاور امریکا اسرائیل کی پشت پناہی میں سب سے آگے ہے


ایم جے گوہر June 05, 2026

دنیا کی آٹھ ارب کی آبادی میں تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمان آبادی والے 57 اسلامی ملکوں کی موجودگی میں محض ایک کروڑ آبادی والے ملک اسرائیل نے مسلمانوں کے قبلہ اول کی سرزمین کو جس طرح جبری انداز میں یرغمال بنا رکھا ہے اور فلسطینیوں پر جس بربریت اور سفاکی سے مظالم ڈھا رہا ہے وہ اسلامی دنیا کے لیے ایک چیلنج ہے۔ پچاس ہزار سے زائد فلسطینی جن میں بچے، بوڑھے، جوان اور عورتیں شامل ہیں شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔

اسکول، بازار، گھر، اسپتال اور عمارتیں سب اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ غربت، بھوک، افلاس، ننگ، بے بسی اور بیماریوں نے نہتے فلسطینیوں کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے۔ امداد کی فراہمی کے تمام راستے مسدود ہیں۔ تمام فلاحی تنظیمیں بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ او آئی سی سے لے کر اقوام متحدہ تک کوئی بھی معصوم و بے گناہ فلسطینیوں کی فریاد اور آہ و فغاں سننے والا نہیں۔ عالمی امن کا ضامن سپرپاور امریکا اسرائیل کی پشت پناہی میں سب سے آگے ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

ٹرمپ کی آشیرباد سے نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی پر اپنا جبری تسلط قائم کر رکھا ہے۔ جنگ بندی کے واضح اعلان اور صدر ٹرمپ کے خودساختہ غزہ بورڈ آف پیس پر دستخط کے باوجود اسرائیل وقفے وقفے سے فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر بمباری کرکے امن معاہدے کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے یہاں بس نہیں کی بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اس نے لبنان پر بھی حملہ کرکے اس پر قبضے کی ناپاک چال چلی ہے اور اخباری اطلاعات کے مطابق 25 میل سے زائد لبنانی علاقے پر اپنا جبری تسلط قائم کرکے لبنانی مسلمانوں کو بے دخل کر رہا ہے اور اسلامی دنیا اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کہیں سے کوئی موثر آواز فلسطین اور لبنان کے مسلمانوں کے لیے اٹھتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی آشیرباد سے بڑی چالاکی، عیاری اور ہوشیاری کے ساتھ اپنے گریٹر اسرائیل منصوبے کی جانب پیش قدمی کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلامی دنیا میں صرف ایران وہ واحد ملک ہے جو اس کی راہ کا سب سے بڑا پتھر بنا ہوا ہے جسے راستے سے ہٹانے کے لیے اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیے اکسایا اور یہ سبز باغ دکھایا کہ ایران دو چار دن میں پسپا ہو جائے گا اور ہم وہاں رجیم چینج کرکے اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ ایران نے تن تنہا امریکی و اسرائیلی حملوں کا 39 دن تک جواں مردی سے مقابلہ کرکے امریکا و اسرائیل کے دانت کھٹے کر دیے۔ امریکا کے سپرپاور ہونے کا بھرم ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے معاہدہ کرکے اپنی خفت مٹا کر شرمندگی سے بچنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ وقفے وقفے سے ایران پر اپنا دباؤ بڑھانے اور اپنی مرضی کا معاہدہ کرنے کے لیے ایران کو مختلف تجاویز بھیجتے رہتے ہیں۔ جواب میں ایرانی قیادت بھی اپنی تجاویز اور شرائط بھیج کر اپنا موقف واضح کر دیتی ہے۔ پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں جانب سے تجاویز کے تبادلوں کا نہ صرف اہتمام کرتا ہے بلکہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی اور ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہتے اور باہم مشاورت کرکے دو طرفہ امن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں جس کا پوری دنیا اعتراف اور تعریف کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے معاہدے کے لیے اب کچھ نئی اور سخت شرائط پھر ایرانی قیادت کو بھیجی ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا نے جو نیا سخت فریم ورک ایران کو بھیجا ہے اس کی جملہ تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں۔ ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران بھی جواب میں نئی تجاویز سامنے لائے گا۔

 مبصرین و تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا اور ایران ہر دو جانب اعتماد و اعتبار کا گہرا فقدان پایا جاتا ہے، اسی باعث امریکا ایران کے درمیان رابطے ٹوٹتے اور جڑتے رہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایران سے معاہدے کو جواز بنا کر عرب ملکوں سے ابراہیم ایکارڈ پر دستخط کرانے کے خواہاں ہیں اور باقاعدہ اس کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان نے بالخصوص امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ 1967 سے پہلے والی پوزیشن تسلیم کیے جانے تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔ امریکا ایران معاہدے کے درمیان یورینیم کی افزودگی اور اب ابراہیم ایکارڈ دو بڑی رکاوٹیں خود امریکا کی پیدا کردہ ہیں۔