ایرانی جوہری پروگرام کی معلومات امریکا کے ساتھ شیئر نہیں کیں، پاکستان، رپورٹس مسترد

ایسی رپورٹ بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے، ترجمان دفتر خارجہ


خالد محمود June 05, 2026

پاکستان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات امریکا سے شیئر کرنیکی رپورٹس کو سختی سے مستردکردیا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات امریکا کے ساتھ شیئر نہیں کیں۔

انھوں نے 29 مئی کو اسحاق ڈار اور امریکی وزیرخارجہ روبیو کی ملاقات سے متعلق سامنے آنے والے دعوؤں کی واضح انداز میں تردید کی ہے۔

انہوں نے کہا ایسی رپورٹ بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اصولی مؤقف، علاقائی استحکام اور باہمی احترام پرمبنی ہے۔

کسی بھی ملک کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق قیاس آرائیوں میں کوئی صداقت نہیں۔

دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریاؤں کے پانی سے متعلق ممکنہ اقدامات کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر نئی دہلی نے پانی روکنے یا اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کے پاس جواب کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں ۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا کہ پاکستان اپنی آبی اور غذائی سلامتی کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کو قبول نہیں کرے گا۔

بریفنگ کے دوران ترجمان نے ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ترجمان نے بتایا کہ دس پاکستانی شہری اب بھی صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان جہاز کے مالک کے ذریعے قزاقوں سے رابطے میں ہے۔ یرغمال پاکستانیوں کی محفوظ واپسی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے رہائشی ذیشان کو بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر گرفتار کیا ہے۔

اس شہری کی جلد رہائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

طاہر اندرابی نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کویت اور بحرین پر حملے قابل مذمت ہیں۔ پاکستان مسلسل افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام جائز اور قانونی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔