وزیراعلیٰ سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو قابو پانے کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت گندم کی خریداری اور ذخائر سے متعلق اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراء مکیش کمار چاولہ، محمد بخش مہر، جام خان شورو، مخدوم محبوب الزماں سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاس میں گندم خریداری مہم اور ذخائر کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس سال گندم خریداری مہم کا ہدف 10 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا گیا تھا، حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی 40 کلو مقرر کی، باردانہ ادائیگی 60 روپے فی 50 کلو بیگ مقرر کی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام کے تحت 3 لاکھ 32 ہزار سے زائد آبادگاروں کو فائدہ پہنچانے کا ہدف ہے، 4 جون 2026ء تک محکمہ خوراک صرف 79 ہزار 835 میٹرک ٹن گندم خرید سکا، کم خریداری کی بڑی وجہ حکومتی امدادی قیمت اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق ہے، مارکیٹ میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے جسے ریگیولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور آٹے کی قیمتیں برقراررکھی جائیں، گندم کی دستیابی، مناسب قیمت اور غذائی تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، مصنوعی قلت پیدا کر کے آٹے کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کو روکاجائے، گندم صرف ایک جنس نہیں بلکہ عوام کی بنیادی غذا ہے۔
سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ گندم کی مستحکم فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کیلئے ہر ضروری اقدام کریں گے، آبادگاروں اور صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔