گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی بہار بھی شروع ہو جاتی ہے اور پھلوں کا بادشاہ تقریباً ہر گھر کی پسند بن جاتا ہے۔ تاہم بازار میں موجود ہر آم یکساں معیار کا نہیں ہوتا۔
بعض آم قبل از وقت توڑے جاتے ہیں جبکہ کچھ ضرورت سے زیادہ پک جانے یا ذائقہ کھو دینے کے باعث خریداروں کی توقعات پر پورا نہیں اترتے۔ ایسے میں چند آسان باتوں کا خیال رکھ کر بہترین، میٹھے اور رسیلے آموں کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
خوشبو سے آم کی مٹھاس کا اندازہ لگائیں
غذائی ماہرین کے مطابق پکے ہوئے آم کی سب سے نمایاں نشانی اس کی خوشگوار خوشبو ہوتی ہے۔ آم کے ڈنٹھل کے قریب سے اگر بھینی بھینی اور میٹھی خوشبو محسوس ہو تو یہ اس کے قدرتی طور پر پکنے کی علامت ہے۔ دوسری جانب اگر آم میں خوشبو نہ ہو تو غالب امکان ہے کہ وہ ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوا۔
نرمی بھی معیار کی اہم علامت
آم خریدتے وقت اسے ہاتھ سے ہلکا سا دبا کر بھی جانچا جا سکتا ہے۔ ایک اچھا پکا ہوا آم معمولی نرم محسوس ہوتا ہے، تاہم اگر وہ بہت زیادہ نرم یا دبانے پر اندر دھنسنے لگے تو یہ زیادہ پک جانے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
صرف رنگ پر بھروسہ نہ کریں
ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کی کوالٹی کا فیصلہ صرف رنگ دیکھ کر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ مختلف اقسام کے آموں کی رنگت مختلف ہو سکتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ چھلکے کو غور سے دیکھا جائے اور اس پر کسی قسم کے کٹ، گہرے داغ یا خراشوں کی موجودگی کو چیک کیا جائے۔
جھریاں تازگی میں کمی کی علامت
اگر آم کے چھلکے پر جھریاں نمایاں ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ پھل اپنی نمی اور تازگی کھو چکا ہے۔ تازہ اور معیاری آم عموماً ہموار چھلکے اور بہتر ساخت کے حامل ہوتے ہیں۔
بھاری آم زیادہ رسیلے ہوتے ہیں
آم کا وزن بھی اس کے معیار کا ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جو آم اپنے سائز کے لحاظ سے زیادہ وزنی محسوس ہو، اس میں عموماً زیادہ گودا اور رس موجود ہوتا ہے، جس سے اس کا ذائقہ مزید بہتر ہو جاتا ہے۔
قدرتی طور پر پکے آم کیسے پہچانیں؟
قدرتی طور پر پکے ہوئے آموں کی رنگت نسبتاً متوازن اور خوشبو دلکش ہوتی ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ غیر معمولی چمکدار یا غیر یکساں رنگ والے آم خریدنے سے گریز کیا جائے کیونکہ انہیں بعض اوقات مصنوعی طریقوں سے پکایا جاتا ہے۔
آم صرف مزیدار ہی نہیں، مفید بھی
آم ذائقے کے ساتھ ساتھ غذائیت سے بھی بھرپور پھل ہے۔ اس میں وٹامن اے اور وٹامن سی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آم استعمال کرنے سے قبل اسے کچھ دیر پانی میں بھگو دینا صفائی اور حفظانِ صحت کے حوالے سے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر خریداری کے وقت ان آسان اصولوں کو ذہن میں رکھا جائے تو بازار سے ہمیشہ تازہ، خوشبودار، میٹھے اور رس بھرے آم گھر لانا کہیں زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔