آئرلینڈ نے اسرائیل کے 2 انتہا پسند وزرا کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی

برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک نے بھی ان دونوں اسرائیلی وزرا کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں


ویب ڈیسک June 05, 2026

آئرلینڈ نے اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بزالیل اسموٹرچ کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آئرلینڈ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں وزرا کے بیانات اور طرزِ عمل فلسطینیوں کے خلاف نفرت انگیز رویے کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کا رویہ مزید سخت اقدامات کا متقاضی ہے۔ 

آئرش وزیراعظم مائیکل مارٹن نے یورپی یونین اور مغربی بلقان سربراہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر انصاف نے حکام کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اگر بن گویر یا اسموتریچ آئرلینڈ آنے کی کوشش کریں تو انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔ 

وزیراعظم مارٹن نے کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا کے بیانات اور اقدامات دراصل فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے ختم کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے اس رویے کے باعث یورپی یونین کی سطح پر بھی ان کے خلاف پابندیوں پر غور کیا جانا چاہیے۔ 

خیال رہے کہ آئرش حکومت کا یہ فیصلہ گزشتہ ماہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔

صمود فلوٹیلا کو روکنے اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز شیئر کی تھیں جنھیں متعدد ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے توہین آمیز اور غیر انسانی قرار دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق آئرلینڈ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنھوں نے ایتمار بن گویر اور اسموٹریچ کے خلاف سفری پابندیاں یا دیگر تادیبی اقدامات کیے ہیں۔ اس سے قبل برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور بعض دیگر ممالک بھی ان دونوں اسرائیلی وزرا کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں۔