ٹرمپ مذاکرات میں تعطل کو ختم کریں ورنہ جنگ آبنائے باب المندب تک پہنچ جائے گی؛ ایران

گیند اب امریکی صدر کے کورٹ میں ہے، فوجی مشیر سپریم لیڈر


ویب ڈیسک June 05, 2026
صدر ٹرمپ کو مذاکرات میں آنے والے تعطل کو ختم کرنا ہوگا؛ محسن رضاعی

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ امن معاہدے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو تہران میں دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکی ہے اور مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے اب امریکا کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اب صدر ٹرمپ کو ہی مذاکرات میں اس تعطل کو توڑنا ہوگا۔ گیند اب امریکی صدر کے کورٹ میں ہے۔

محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے یا تنازع دوبارہ بھڑکتا ہے تو اس کے اثرات صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممکنہ جنگ کی صورت میں تنازع بحرِ ہند، بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور بحیرہ روم تک پھیل سکتا ہے جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے حالیہ مہینوں میں بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستوں پر نسبتاً تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے۔

اگر حوثی باب المندب کو بند کردیں جب کہ آبنائے ہرمز پہلے ہی بند ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی فراہمی کو بڑا دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

ان دونوں آبی راستوں کے ذریعے دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے لہٰذا کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تاہم محسن رضائی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اب بھی مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے تاہم ایران امریکی قیادت سے عملی پیش رفت اور واضح فیصلوں کا منتظر ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی تعطل ختم ہو سکے۔