روس نے امریکا اور ایران کے درمیان جگ بندی معاہدے پر پاکستانی ثالثی کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں پاکستان کے کردار کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکراتی عمل کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے روسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں خصوصاً وہ سفارتی کوششیں جن میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے یا معاہدے میں نہ صرف ایران بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک کے سیکیورٹی اور سیاسی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ خطے میں دیرپا استحکام پیدا کیا جا سکے۔
روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا خود بھی ایران کے ساتھ موجودہ کشیدگی کی سنگینی کو تسلیم کرتا ہے تاہم وہ اس بحران سے نکلنے کے لیے واضح اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے میں مشکلات کا شکار بھی دکھائی دیتا ہے۔
وزیر خارجہ سرگئی لارووف کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کی بنیادی ذمہ داری بڑی حد تک امریکا پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ماضی کی بعض پالیسیوں اور فیصلوں نے خطے میں عدم اعتماد اور تناؤ کو بڑھایا۔
سرگئی لارووف نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کے علاوہ سعودی عرب اور مصر بھی سفارتی رابطوں اور مذاکراتی عمل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کے بقول اس تنازع کے حل کے لیے مختلف علاقائی ممالک کی شمولیت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کے اہم فریق تنازع کے پرامن حل کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حالات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ کسی بھی صورت منقطع نہ ہو کیونکہ مسلسل بات چیت ہی کشیدگی میں کمی اور کسی قابل قبول حل تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔