کوئٹہ سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹرپر تیزاب گردی، ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک، متاثرہ ڈاکٹر کراچی منتقل

ملزم ہمایوں شاہ نے نوشکی بس اسٹینڈ کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مزاحمت تاہم فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگیا


(فوٹو فائل)

بلوچستان کے سب سے بڑے سرکاری طبی ادارے سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ میں سرجیکل وارڈ میں دوران ڈیوٹی ایک شخص نے پوسٹ گریجویٹ (پی جی) خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا اور موقع سے فرار ہوگیا جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم تلاش کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق خاتون ڈاکٹر تیزاب کے حملے میں شدید زخمی ہوگئیں اور انہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے چہرے اور جسم کا تقریباً 35 فیصد حصہ جھلس چکا ہے۔

سول اسپتال کوئٹہ میں پیش آنے والے تیزاب گردی کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے، جس میں مبینہ حملہ آور کو تیزاب پھینکنے کے بعد فرار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے شہر بھر میں سرچ اور انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں شروع کردیں اور تیزاب گردی کے مقدمے میں مطلوب ملزم ہمایوں شاہ نوشکی بس اسٹینڈ کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس نے مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے ترجمان اور معاون شاہد رند کے مطابق زخمی ڈاکٹر کو جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کا مزید علاج جاری ہے۔

واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے دعویٰ کیاکہ ملزم اسپتال میں لفٹ آپریٹر مین تھا جو پرائیویٹ نوکری کرتا تھا، ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ ملزم نے قتل کے ارادے سے خاتون ڈاکٹر ماہ نور پر حملہ کیا۔

تنظیم کے رہنماؤں نے واقعے کو اسپتالوں میں سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سیکریٹری صحت اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سول اسپتال کا فوری تبادلہ کیا جائے اور واقعے کی شفاف جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ایمرجنسی سروسز کے علاوہ بلوچستان بھر کے سرکاری اسپتالوں میں طبی خدمات معطل کردی جائیں گی۔