سندھ ہائیکورٹ نے کراچی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں ایف بی آر اور کسٹمز کے چھاپے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضبط شدہ سامان واپس کرنے کا حکم دیدیا۔
وکیل درخواست گزار کے مطابق درخواست گزار کمپنی ای پی زیڈ اے کی اجازت سے تمباکو اور سگریٹ کی تیاری کا کام کررہی ہے، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس فراڈ کے الزام میں چھاپہ مارا، قانون درآمدات کے باوجود کسٹمز نے سگریٹ اور دیگر سامان ضبط کیا۔
سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ ایف بی آر کے مطابق کمپنی کے گوشوارے مشکوک پائے گئے تھے، وفاقی اداروں نے غیر قانونی تمباکو مصنوعات کی تیاری کے ذریعے ٹیکس چوری کی اطلاع پر کارروائی کی،
جسٹس سلیم جیسر نے کہا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت ٹیکس فراڈ کی تحقیقات سے قبل کمشنر کی منظوری اور متعلقہ فرد کو موقف پیش کرنے کا موقع دینا لازمی ہے، ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتا کہ درخواست گزار کے خلاف باقاعدہ انکوائری کی کمشنر سے منظوری حاصل کی گئی۔
عدالت نے کہا کہ سرچ وارنٹ حاصل کرتے ہوئے بھی ایف بی آر نے درخواست گزار کے خلاف زیر التوا کارروائی ثابت نہیں کی، مجسٹریٹ کی جانب سے سرچ کی اجازت دینا قانون کے مطابق نہیں تھا، چھاپے کے دوران غیر قانونی سرگرمی سامنے نہیں آئی تو کسٹمز کو طلب کرکے سامان ضبط کرلیا گیا۔ کسٹمز ایکٹ کے تحت سامان کی قانونی حیثیت سے متعلق معلومات لی جاسکتی ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کے پیش کردہ درآمدات کے دستاویزات سے بظاہر ثابت ہوتا ہے کہ تمام سامان قانونی طور پر درآمد کیا گیا تھا، ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد نہیں جو ثابت کرے کہ سامان اسمگل شدہ تھا، سرکاری اہلکار آئین کے تحت شہریوں کو حاصل حقوق کے منافی اختیارات استعمال نہیں کرسکتے۔
سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ سرکاری اداروں کا چھاپہ، سرچ وارنٹ اور ضبطگی قانون سے متصادم ہے، سرچ وارنٹس اور اسکے تحت کی گئی تمام کارروائیاں کالعدم قرار دی جاتی ہیں، ضبط شدہ سامان درخواست گزار کمپنی کے حوالے کیا جائے۔