بدحواس اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے بجائے لبنانی فوج پر حملہ کردیا؛ 3 افسران ہلاک

اسرائیل کے آرمی جیپ پر حملے میں لبنانی فوج کا جنرل، کیپٹن اور ایک اہلکار مارا گیا


ویب ڈیسک June 06, 2026
اسرائیل کے آرمی جیپ پر حملے میں لبنانی فوج کا جنرل، کیپٹن اور ایک اہلکار مارا گیا

امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جس میں لبنانی فوج کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنانی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ اسرائیل نے صوبہ نبطیہ میں کفر تبنیت اور خردلی کے درمیان ایک فوجی گاڑی کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا۔

ترجمان نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اسرائیل کے اس حملے میں لبنانی فوج کا ایک بریگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک سپاہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ گاڑی ایک ایسے علاقے میں داخل ہوئی تھی جسے فعال جنگی زون قرار دیا گیا تھا اور وہاں نقل و حرکت کے لیے پیشگی رابطہ ضروری تھا۔

ترجمان اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ اس علاقے میں حزب اللہ کی ممکنہ کارروائیوں سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس کے باعث علاقے میں تعینات فوجی ہائی الرٹ تھے اور جب لبنانی فوج بغیر اطلاع کے داخل ہوئی تو مغالطہ ہوگیا۔

تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان نے یہ یقین دلایا کہ اس افسوسناک واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

دوسری جانب لبنان کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ جمعے کو نبطیہ ضلع کے قصبے زبدین پر ایک اور اسرائیلی حملے میں 5 افراد مارے گئے جن میں ایک خاتون اور ہنگامی امدادی کارکن بھی شامل ہیں جبکہ 2 افراد زخمی ہوگئے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر جنوبی لبنان کے متعدد دیہاتوں، جن میں آرامتا، مشغرا، کفرحونہ، سجود اور انصاریہ شامل ہیں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی ایک نئی کوشش سامنے آئی تھی تاہم حزب اللہ نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی افواج کی موجودگی اور حملوں کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔