فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد نے وسطی اسرائیل میں ہونے والے مہلک فائرنگ حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں اسرائیلی پالیسیوں اور فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کا ’فطری ردعمل‘ قرار دیا ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور یہودی آبادکار گروہوں کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف جاری کارروائیوں اور مبینہ مظالم کے تناظر میں ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
اسلامی جہاد نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ فائرنگ حملے اسی صورتحال کا ردعمل ہیں۔
بیان میں تنظیم نے حملے کے ذمہ دار افراد کے لیے دعائیہ کلمات بھی استعمال کیے اور کہا کہ وہ ان کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کے روز وسطی اسرائیل میں مقبوضہ مغربی کنارے کے قریب مختلف مقامات پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے جن میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اسرائیلی حکام نے واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی، غزہ جنگ اور مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تصادم کے باعث اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں سکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔
اسلامی جہاد کے بیان نے ایک بار پھر خطے میں جاری تنازع اور سکیورٹی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے ایسے بیانات کو تشدد کی حوصلہ افزائی قرار دیا ہے۔