برطانیہ میں مقیم کشمیری شہریوں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال پرتحفظات کااظہار کیا ہے۔اوورسیزکشمیریوں نے آزاد کشمیراسمبلی سے پاس ہونے والے بل کی بھرپورحمایت کی ہے۔
برطانیہ میں مقیم اوورسیز کشمیریوں کا کہناہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی بلاوجہ احتجاج کی کالیں دیکر ریاست کے حالات خراب کرنا چاہتی ہے، ووٹ ہرشہری کابنیادی حق ہے، مہاجرین بھی کشمیری ہیں اور ان کا حق چھینا نہیں جا سکتا ۔ایکشن کمیٹی کسی بیرونی جماعت کاآلہ کارنہ بنے۔انہوں نے زور دیکر کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی ہٹ دھرمی چھوڑکرافہام وتفہیم کاراستہ اختیارکرے۔
اوورسیزکشمیریوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیرفیصل راٹھور معاملے کے حل کے لیے انتہائی سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں، ایکشن کمیٹی میں شامل چند قوم پرست اپنےمخصوص ایجنڈے کے تحت لوگوں میں تقسیم ڈال رہے ہیں۔ آزاد کشمیراسمبلی کا فیصلہ بالکل درست ہے،مہاجرین کوبھی سب کی طرح برابرکاحقِ رائے دہی ملناچاہیے ۔
اوورسیز کشمیریوں کا موقف ہے کہ مسلسل احتجاج اورہڑتالوں سے ملک کوشدید مالی نقصان پہنچ رہا ہے اور روزمرہ کی سرگرمیاں متاثرہورہی ہیں۔ مقامی کشمیریوں اورمہاجرین کا رشتہ اٹوٹ ہے، اسے کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتا۔