کیا پاکستان سے جرائم کا خاتمہ ممکن ہے؟

کوئی بھی مجرم پیدائشی نہیں ہوتا، سماجی حالات و واقعات اور ماحول انسان کو مجرم بنا دیتے ہیں۔


جبار قریشی June 08, 2026

  کوئی بھی مجرم پیدائشی نہیں ہوتا، سماجی حالات و واقعات اور ماحول انسان کو مجرم بنا دیتے ہیں۔ غربت، جہالت، تعلیم و تربیت کا فقدان، ناانصافی، بے روزگاری، قانون کی خلاف ورزی، فکر آخرت کا فقدان، عدم برداشت، دولت کی اندھی ہوس، انا پرستی وہ بنیادی اسباب ہیں جو جرائم کو جنم دیتے ہیں۔ جرائم کسی بھی معاشرے میں ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں جرائم معاشرے کا لازمی جز بن کر رہ گئے ہیں بلکہ ان کو فروغ حاصل ہو رہا ہے، ایسا کیوں ہے؟

 آئیے! اس بات کا جائزہ لیں کہ ہمارے معاشرے میں جرائم کا فروغ کیوں ہو رہا ہے۔

 جرائم کے فروغ میں مہنگائی اور بے روزگاری ایک اہم عنصر ہے، انسان جب بھوک میں مبتلا ہوتا ہے تو بھوک مٹانے کے لیے کسی کے بھی حق کو پامال کرتا ہے، اس طرح آمدنی کم ہونے کی صورت میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناجائز ذرائع اختیار کرتا ہے، اس طرح وہ جرم کا ارتکاب کرتا ہے جو جرائم کے فروغ کا باعث بن جاتا ہے، اگر کسی معاشرے میں قانون کی بالادستی نہ ہو، جب کسی کو حق پر ہوتے ہوئے بھی انصاف نہ ملے تو ایسے معاشرے میں ظلم سے متاثرہ شخص خود بدلہ لینے کی آگ میں جلتا ہے، پھر حصول انصاف کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر بدلہ لیتا ہے اس طرح وہ جرم کا مرتکب ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں جرائم کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں معاشی ناہمواریاں اور محرومیاں حد سے بڑھ جاتی ہیں تو انسان اپنے حقوق کے حصول کے لیے منفی راستے اختیار کرتا ہے جو جرائم کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔

جرائم کے فروغ کا ایک سبب بڑھتی ہوئی خواہشات بھی ہیں، انسان کامیابی کے لیے شارٹ کٹ اختیار کرتا ہے، راتوں رات امیر بننے کے چکر میں ناجائز راستے اختیار کرتا ہے ایسے حالات میں انسان کی آنکھوں پر ہوس کی پٹی بندھ جاتی ہے وہ اپنے نفس کا اسیر بن جاتا ہے اور اس کی تکمیل کے لیے اخلاق، مذہب اور قانون کی تمام پابندیوں کو پامال کرتا ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک اہم عنصر ہے جو جرائم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان عوامل کے علاوہ ہمارے عدل و انصاف کے نظام میں بھی چند ایسی خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے جرائم کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ آئیے ،اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

پولیس ریاست کا چہرہ ہے اس کا بنیادی فریضہ جرائم کا کنٹرول، امن و امان کا قیام اور عوام کی جان و مال کا تحفظ شامل ہیں۔ جرائم کی روک تھام میں پولیس کا اہم کردار ہوتا ہے، پولیس کی ناقص تفتیش کے نظام کی وجہ سے ہمارے یہاں بیشتر مجرم سزا سے بچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا حوصلہ زیادہ بلند ہو جاتا ہے اور پھر وہ باقاعدہ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔

ہمارے ملک کا تھانہ کلچر کچھ ایسا ہے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کا پولیس پر اعتماد ہی نہیں، یہی وجہ ہے کہ کسی کے ساتھ حق تلفی ہو جائے وہ تھانے میں اس کا اندراج کرانا تو دور کی بات ہے وہ تھانے ہی نہیں جاتے، اس کے نتیجے میں مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ دیدہ دلیری سے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔

قانون کی پیچیدگیاں انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، عام آدمی کے لیے انگریزی زبان میں قانونی کارروائی اور مہنگی مہنگی فیسیں ناقابل فہم ہے۔ اس عمل کا خوشحال طبقے پر تو کوئی اثر نہیں ہوتا البتہ پس ماندہ اور غریب طبقات اس نظام کی چکی میں پس جاتے ہیں۔ عدالتی فیصلوں میں تاخیر عدالتی نظام کا سب سے بڑا نقص تصور کیا جاتا ہے۔ مقدمات کی بھرمار، ججوں کی تعداد میں کمی، ججوں میں قوت فیصلہ کی کمی، وکیلوں کا بار بار سماعت ملتوی کرانا اس کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں اس عمل کے نتیجے میں عدالتی مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے جس سے لوگ عدالتی نظام سے مایوس نظر آتے ہیں، وہ قانون کا سہارا لینے کے بجائے خود فیصلے کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں جو جرائم کے فروغ کا باعث بنتا ہے۔ مقدمات کے فوری حل میں عوام الناس کی جہالت، ضد، ہٹ دھرمی، انا، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش بھی مقدمات کی تاخیر کا باعث بنتی ہے۔ جیل خانہ جات کے قیام کا مقصد جرائم کو کم کرنا، مجرموں کی اخلاقی تربیت کے ذریعے معاشرے کا مفید شہری بنانا ہے۔ ہمارے یہ ادارے اپنے ان مقاصد کے حصول میں ناکام رہے ہیں، ہمیں اس کے اسباب پر غور کرنا چاہیے۔

جرائم کے فروغ میں میڈیا کا بھی ایک منفی کردار رہا ہے، میڈیا بالخصوص فلم اور ڈرامہ غیر محسوس طریقے سے انسانی سوچ پر اثرانداز ہوتے ہیں جب جرائم پیشہ افراد کو فلموں اور ڈراموں میں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب تو غریب خوشحال گھرانوں کے بچے بھی اس کا منفی اثر لیتے ہیں اور جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں جس سے جرائم کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ معاشرے میں جو جرائم کا بڑھتا ہوا رجحان فروغ پا رہا ہے اس کا تدارک کیسے کریں؟ میری ذاتی رائے میں جرائم کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مجرمانہ سرگرمیوں کے محرکات کا پتا لگائیں اس کے اسباب پر غور کرکے اس کے خاتمے کی کوشش کریں، جرائم کے خاتمے میں معاشرتی رویے اور اقدار بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف ردعمل نہیں ہوگا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی۔ اس کا خاتمہ ممکن نہیں، معاشرے میں اعلیٰ اقدار اور اچھے اخلاق کے ذریعے منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مغربی ممالک میں جرائم کی شرح کم ہے۔ جب اس حوالے سے بات کی جاتی ہے تو ایک گروہ کا خیال ہے کہ وہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ وہاں کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے جس کی وجہ سے وہاں قانون کا احترام ہے اور جس کی وجہ سے وہاں جرائم کی شرح کم ہے۔ میری ذاتی رائے میں دونوں عناصر باہم مل کر ہی معاشرے کو مثالی بناتے ہیں، کسی ایک عنصر کو درست قرار دینا صحیح نہیں ہے۔

ماضی میں ہمارے یہاں ایک دور میں پنچایتی نظام موجود تھا جو اب عملاً متحرک نہیں رہا، اس مصالحتی عنصر کی وجہ سے گلی محلے کے چھوٹے چھوٹے معاملات عدالتی چکروں وکلا کی فیسوں کے بغیر گلی محلے کی سطح پر باہمی رضامندی سے مقامی سطح پر حل ہو جاتے تھے۔ اب یہ تھانہ کچہری کے کھاتے میں چلے جاتے ہیں جس سے ہمارے عدالتی نظام کے بوجھ میں خاصا اضافہ ہوا ہے جن کا عدالتی نظام کے ذریعے حل ہونا قدرے مشکل ترین کام بن گیا ہے، اگر قواعد و ضوابط طے کرکے پنچایتی نظام کو مضبوط بنایا جائے تو ہمارے بہت سے قانونی مسائل گھر کی دہلیز پر ہی حل ہو سکتے ہیں۔

انسانی زندگی میں مذہب کی حیثیت مسلمہ ہے۔ مذہب انسان کو فکری انتشار اور بے سکونی کے دلدل سے نکال کر اس کی زندگی کو معانی عطا کرتا ہے۔ اس میں فکر آخرت کے تصور کے ذریعے انسان کے اندر خود احتسابی کا نظام پیدا کرتا ہے جس کے ذریعے معاشرے کو مثالی بنایا جا سکتا ہے۔

جرائم کے کنٹرول میں مذہب کی اہمیت سے کوئی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام الناس میں اسلامی تعلیمات کو عام کیا جائے اسی صورت میں ہی ہم معاشرے کو مثالی معاشرہ بنا سکتے ہیں۔