لندن: اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں کی خبر سامنے آنے کے ایک گھنٹے کے اندر عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.63 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 96.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی 3.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 93.89 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں سپلائی کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
سرمایہ کار اور عالمی منڈیاں اب خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ آئندہ چند روز میں تیل کی قیمتوں کا انحصار ایران اور اسرائیل کے درمیان صورتحال کی نوعیت پر ہوگا۔