شی جن پنگ نے شمالی کوریا اور چین کے درمیان تعلقات کو ’ناقابلِ شکست دوستی‘ قرار دے دیا

چین کئی دہائیوں سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور سفارتی و اقتصادی حمایت فراہم کرنے والا ملک رہا ہے


ویب ڈیسک June 08, 2026

چینی صدر شی جن پنگ اپنے ایک اہم دورے پر شمالی کوریا پہنچے ہیں، شی جن پنگ نے پیانگ یانگ پہنچنے پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ’ناقابلِ شکست دوستی‘ قرار دیا اور باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

چین گزشتہ کئی دہائیوں سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور سفارتی و اقتصادی حمایت فراہم کرنے والا ملک رہا ہے۔

شی جن پنگ کا یہ دورہ 2019 کے بعد شمالی کوریا کا پہلا دورہ ہے اور ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والی ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشترکہ مقصد کی توثیق کی ہے، تاہم کم یو جونگ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کی جوہری طاقت واپسی کا کوئی راستہ نہ رکھنے والی پالیسی ہے۔

کم یو جونگ نے اپنے بیان میں امریکی مؤقف کو ’جھوٹی معلومات‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب بھی پرانے اور غیر حقیقت پسندانہ خواب دیکھ رہا ہے۔ ان کے مطابق شمالی کوریا اپنے دفاعی جوہری نظام کو مزید مضبوط بنانے کی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا۔

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ چین اب شمالی کوریا کو ایک جوہری ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے قریب دکھائی دیتا ہے، جبکہ بیجنگ کی بنیادی ترجیح خطے میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور یوکرین جنگ میں پیانگ یانگ کی حمایت نے کم جونگ اُن کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ شی جن پنگ کا یہ دورہ شمالی کوریا پر چین کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور روس کے بڑھتے ہوئے کردار کا توازن قائم کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

چینی صدر نے شمالی کوریا کے سرکاری اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا کہ عالمی حالات جیسے بھی ہوں، چین اور شمالی کوریا کی روایتی دوستی ہمیشہ مضبوط اور ناقابلِ شکست رہے گی۔