گلگت بلتستان اور شفاف انتخابات

گلگت بلتستان پاکستان کا ایک منفرد اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم خطہ ہے۔


ایڈیٹوریل June 09, 2026

یہ امر باعث اطمینان اور مسرت ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابات کا مرحلہ مجموعی طور پر پرامن، شفاف اور منظم انداز میں پایہء تکمیل کو پہنچا۔ پاکستان کی تقریباً تمام چھوٹی ،بڑی سیاسی جماعتوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، جب کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت متعدد قومی رہنماؤں نے انتخابی جلسوں سے خطاب کرکے اس خطے کو قومی سیاسی مباحثے کا مرکز بنا دیا۔ اس انتخابی سرگرمی نے نہ صرف گلگت بلتستان کے عوامی مسائل کو اجاگر کیا بلکہ وفاقی سطح پر بھی اس خطے کی اہمیت کو نمایاں کیا۔ اب نئی حکومت پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابی وعدوں کو عملی شکل دیتے ہوئے عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

گلگت بلتستان پاکستان کا ایک منفرد اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم خطہ ہے۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کا سنگم اسی علاقے میں واقع ہے۔ کے ٹو سمیت کئی بلند چوٹیاں، گلیشیئرز، قدرتی جھیلیں اور دلکش وادیاں اسے قدرتی حسن کا شاہکار بناتی ہیں، تاہم اس خطے کی اہمیت صرف جغرافیہ تک محدود نہیں بلکہ تاریخی، تہذیبی، معاشی اور تزویراتی اعتبار سے بھی یہ پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

گلگت بلتستان کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ یہ خطہ قدیم شاہراہِ ریشم کا اہم حصہ رہا جہاں مختلف تہذیبیں، مذاہب اور ثقافتیں ایک دوسرے سے متعارف ہوئیں۔ بدھ مت، ہندو مت اور بعد ازاں اسلام کے اثرات یہاں کی تاریخ میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ مختلف ادوار میں یہ علاقہ مقامی ریاستوں اور حکمرانوں کے زیر انتظام رہا، جب کہ انیسویں صدی میں ڈوگرہ راج کے زیر تسلط آیا۔ یکم نومبر 1947ء کو مقامی عوام اور مجاہدین نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے آزادی حاصل کی، جسے آج بھی یومِ آزادی گلگت بلتستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ثقافتی اعتبار سے گلگت بلتستان پاکستان کے متنوع ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں شینا، بلتی، بروشسکی، وخی، کھوار اور دیگر زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر وادی اپنی الگ تہذیبی شناخت، لوک روایات، موسیقی، دستکاری اور رہن سہن رکھتی ہے، یہی تنوع اس خطے کا حسن ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی مہمان نوازی، امن پسندی اور محنت کشی کے لیے مشہور ہیں۔ مختلف مسالک اور لسانی گروہوں کے باوجود باہمی احترام اور ہم آہنگی کی روایات طویل عرصے سے برقرار ہیں، جو ملک کے دیگر علاقوں کے لیے بھی ایک مثبت مثال ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں گلگت بلتستان کی سیاست میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب یہاں کے انتخابات کو محض وفاقی حکومت کی توسیع سمجھا جاتا تھا اور عمومی تاثر یہی تھا کہ اسلام آباد میں جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کامیاب قرار پاتی ہے۔ تاہم حالیہ انتخابات نے اس تاثر کو کسی حد تک چیلنج کیا ہے۔ عوام نے سیاسی وابستگی کے ساتھ ساتھ مقامی مسائل، امیدواروں کی کارکردگی اور علاقائی ترجیحات کو بھی اہمیت دی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق اس بار ووٹرز کا ٹرن آؤٹ تقریباً ستر فیصد رہا، جو سیاسی شعور اور جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ انتخابات کے دوران پندرہ ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے اور پورے خطے میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش رہی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ کسی بڑے ناخوشگوار واقعے یا منظم انتخابی بدعنوانی کی شکایت سامنے نہیں آئی، جس سے جمہوری اداروں پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

غیر سرکاری، غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، جب کہ مسلم لیگ (ن) نے بھی قابل ذکر کامیابی حاصل کی۔ آزاد امیدواروں کی موجودگی نے حکومت سازی کے عمل کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام محض روایتی سیاسی نعروں کے بجائے عملی کارکردگی اور مقامی مسائل کے حل کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔تاہم انتخابات کا انعقاد اپنے آپ میں منزل نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ آیا نئی حکومت عوامی توقعات پر پورا اتر سکے گی یا نہیں؟ گلگت بلتستان کو اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل محض سیاسی بیانات سے ممکن نہیں بلکہ جامع منصوبہ بندی اور مسلسل حکومتی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔سب سے اہم مسئلہ آئینی حیثیت کا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود گلگت بلتستان کے عوام مکمل آئینی شناخت اور پارلیمانی نمائندگی کے منتظر ہیں، اگرچہ مختلف ادوار میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں اور مقامی خود اختیاری کے بعض اختیارات دیے گئے، لیکن آج بھی یہاں کے باشندے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں براہ راست نمائندگی سے محروم ہیں۔ اس صورتحال نے سیاسی بے چینی اور احساس محرومی کو جنم دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام قومی سیاسی قوتیں اتفاقِ رائے سے ایسا آئینی حل تلاش کریں جو عوامی خواہشات، قومی مفادات اور بین الاقوامی ذمے داریوں کے درمیان متوازن ہو۔

دوسرا بڑا مسئلہ بنیادی ڈھانچے کی کمزوری ہے۔ دشوار گزار پہاڑی راستے، محدود سفری سہولیات اور کئی علاقوں میں ناکافی مواصلاتی نظام ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگرچہ قراقرم ہائی وے اور بعض دیگر منصوبوں نے رابطوں کو بہتر بنایا ہے، تاہم اب بھی متعدد دور افتادہ علاقوں میں سڑکوں کی حالت تشویشناک ہے۔ بارشوں، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رابطے منقطع ہو جانا معمول کی بات ہے۔ حکومت کو جدید سڑکوں، سرنگوں اور محفوظ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ لوگوں کی نقل و حرکت اور تجارتی سرگرمیوں میں آسانی پیدا ہو۔تعلیم کا شعبہ بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ شرح خواندگی نسبتاً بہتر ہونے کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے مواقع محدود ہیں۔ بہت سے نوجوانوں کو بہتر تعلیم کے لیے ملک کے دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

فنی تعلیم، سائنسی تحقیق اور جدید مہارتوں کے مراکز کا فقدان روزگار کے مسائل کو بڑھا رہا ہے، اگر حکومت جدید یونیورسٹیوں، ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس اور ڈیجیٹل تعلیمی مراکز کے قیام پر توجہ دے تو نوجوان نسل کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ صحت کے شعبے کی صورتحال بھی تشویشناک پہلو رکھتی ہے۔ کئی اضلاع میں جدید طبی سہولیات دستیاب نہیں۔ پیچیدہ بیماریوں کی صورت میں مریضوں کو راولپنڈی، اسلام آباد یا دیگر شہروں میں منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے وقت اور وسائل دونوں ضایع ہوتے ہیں۔ ضلعی اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی، ٹیلی میڈیسن سسٹم اور ایمرجنسی طبی خدمات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔بے روزگاری نوجوانوں کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ سیاحت، زراعت، معدنیات اور پن بجلی کے وسیع امکانات کے باوجود مقامی آبادی کو مطلوبہ معاشی فوائد حاصل نہیں ہو رہے۔

ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مناسب روزگار سے محروم رہتے ہیں۔ حکومت کو مقامی صنعتوں، چھوٹے کاروباروں، آئی ٹی سیکٹر اور ہنر مندی کے پروگراموں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔سیاحت گلگت بلتستان کی معیشت کا سب سے روشن پہلو بن سکتی ہے۔ دنیا بھر سے سیاح یہاں کی قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں، تاہم سیاحتی انفرا اسٹرکچر اب بھی مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکا۔ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، صفائی، رہنمائی اور ہنگامی خدمات کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔ پائیدار سیاحت کی پالیسی اختیار کرکے مقامی آبادی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔خواتین کی سماجی اور معاشی شمولیت بھی ترقی کے عمل کا لازمی جزو ہے۔

گلگت بلتستان کی خواتین تعلیم، کاروبار، کھیل اور سماجی خدمات کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، مگر انھیں مزید مواقع اور وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ انتخابات نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام سیاسی طور پر باشعور، جمہوری اقدار کے حامی اور اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ انھوں نے ووٹ کی طاقت سے اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں۔ اب ذمے داری منتخب قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اقتدار کی رسہ کشی سے آگے بڑھ کر عوامی خدمت کو ترجیح دے۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی شناخت، معاشی ترقی اور علاقائی استحکام کا اہم ستون ہے، اگر یہاں کے عوام کو آئینی حقوق، معیاری تعلیم، بہتر صحت، جدید انفرا اسٹرکچر اور معاشی مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ خطہ پورے ملک کی ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔

پہاڑوں کی گود میں آباد اس خطے کے عوام نے ایک بار پھر جمہوریت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے اعتماد کا جواب عملی اقدامات، پائیدار پالیسیوں اور دور رس فیصلوں کی صورت میں دیا جائے۔ گلگت بلتستان کے مسائل کا حل صرف مقامی ضرورت نہیں بلکہ قومی ذمے داری بھی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اس خوبصورت خطے کو پائیدار ترقی، سیاسی استحکام اور خوشحالی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔