لبنان کے صدر نے اسرائیل کو مذاکرات کی دعوت دے دی

فوجی کارروائیاں ماضی میں بھی پائیدار سلامتی فراہم نہیں کر سکیں، جوزف عون


ویب ڈیسک June 08, 2026

لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں دیرپا استحکام صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے طاقت کا استعمال مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی قیادت اور عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں فریق سنجیدگی سے مسائل کا حل چاہتے ہیں تو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ لبنان گفتگو کے لیے تیار ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو ترجیح دیتا ہے۔

لبنانی صدر نے زور دیا کہ فوجی کارروائیاں ماضی میں بھی پائیدار سلامتی فراہم نہیں کر سکیں اور آئندہ بھی یہ راستہ خطے کے عوام کو امن نہیں دے سکتا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری مخاصمت کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جوزف عون نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا سیاسی معاہدے سے قبل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے۔

ان کے مطابق زیرِ غور فریم ورک مکمل امن معاہدے کے بجائے عدم جارحیت کی بنیاد پر استوار ہوگا جو مستقبل میں وسیع تر امن عمل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اپنی سفارتی حکمت عملی میں 2002 کی عرب امن تجویز کو بنیادی حوالہ سمجھتا ہے جس میں فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے بدلے عرب ممالک اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی بات کی گئی تھی۔

لبنانی صدر کے مطابق واشنگٹن کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان رابطے اور مذاکرات کا عمل جاری ہے جس کا مقصد مکمل جنگ بندی اور سرحدی کشیدگی کے مستقل خاتمے کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کرنا ہے۔