اسرائیل کی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اپنی فوج کو کہا ہے کہ حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے لبنان کی خواتین اور نوجوانوں کو حراست میں لے لیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر نے یہ تجویز اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے دوران دی۔ اس متنازع بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کرلی ہے۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ایتمار بن گویر نے کہا کہ حزب اللہ کے خلاف روایتی حکمت عملی سے ہٹ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف عسکری کارروائیوں اور جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے بجائے ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا جانا چاہیے جن پر حزب اللہ سماجی یا خاندانی سطح پر انحصار کرتی ہے۔
وزیر قومی سلامتی نے کھل کر کہا کہ جنوبی لبنان میں کارروائیوں کے دوران ان کے گھروں کی خواتین اور نوجوانوں کو گرفتار کرکے اسرائیلی جیلوں میں منتقل کیا جائے اس سے حزب اللہ پر زیادہ دباؤ پڑے گا۔
خیال رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل غیر قانونی ’’جنگی قانون‘‘ کے تحت ایسے افراد کو بھی حراست میں رکھ سکتا ہے جن پر باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہوتی۔
یہ قانون 2002 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کا مقصد اسرائیلی حکام کے مطابق قومی سلامتی کے خطرات سے نمٹنا تھا تاہم انسانی حقوق کے ادارے طویل عرصے سے اس قانون پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت اس قانون کے تحت زیرِ حراست افراد میں فلسطینیوں کے علاوہ کچھ لبنانی اور شامی شہری بھی شامل ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بغیر مقدمے اور فردِ جرم کے طویل حراست بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہے۔
تاحال حزب اللہ یا لبنان کی حکومت کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔