لاہور:
پنجاب بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں آج صبح ہی سے سورج کی تپش میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب کہ صبح کے وقت درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ ہوا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ شہر میں دن کے ساتھ ساتھ راتیں بھی غیر معمولی طور پر گرم ہونے لگی ہیں اور آئندہ ایک سے دو روز کے دوران گرمی کی شدت میں بتدریج مزید اضافہ متوقع ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہیٹ ویو الرٹ کے مطابق 12 جون تک پنجاب کے بیشتر اضلاع شدید گرمی کی لپیٹ میں رہ سکتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بالائی پنجاب میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ جنوبی پنجاب اور میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، لاہور، گجرات، گجرانوالہ، حافظ آباد، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ، نارووال، اوکاڑہ، قصور اور فیصل آباد میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔
اسی طرح ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، پاکپتن، رحیم یار خان، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر، بھکر، لیہ، کوٹ ادو، سرگودھا، جھنگ، خوشاب، میانوالی، نور پور تھل اور ساہیوال بھی شدید گرمی سے متاثر رہیں گے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک براہ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے دھوپ میں غیر ضروری سرگرمیوں سے اجتناب اور جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو 1122 کو ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ شہری علاقوں میں امدادی کیمپ، صاف پانی، او آر ایس اور ابتدائی طبی امداد کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار بھی بڑھ سکتی ہے۔