کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر 10 میں عرشی مسجد کے قریب نوجوان حمزہ کی گلے میں پھندا لگی لاش ملنے کے واقعے کا مقدمہ مومن آباد تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ مقتول کے والد ظہور الدین کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں مقتول کی اہلیہ دعا اور اس کے سابق شوہر فہد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مدعی کے مطابق گزشتہ روز ان کی بیٹی نے فون کرکے فوری طور پر حمزہ کے گھر پہنچنے کا کہا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو حمزہ کی لاش چھت سے لٹکی ہوئی تھی جبکہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مقتول کے منہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا اور پیٹ پر معمولی چوٹوں کے نشانات بھی موجود تھے۔
مقدمے کے متن کے مطابق مقتول کے بھائی عمران نے بتایا کہ حمزہ کی اہلیہ نے انہیں اطلاع دی تھی کہ حمزہ نے خودکشی کرلی ہے، تاہم گھر پہنچنے پر صورتحال مختلف نظر آئی، جس پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس اور کرائم سین یونٹ نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو اس کی اہلیہ دعا اور اس کے سابق شوہر فہد نے مل کر قتل کیا اور بعد ازاں اسے پھندا دے کر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تین روز قبل فہد مقتول کے گھر آیا تھا، جہاں اس نے جھگڑا کیا، دھمکیاں دیں اور بعد میں علاقہ مکینوں نے مداخلت کرکے معاملہ ختم کرایا تھا۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق قتل کے الزام میں مقتول کی اہلیہ دعا کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ نامزد ملزم فہد مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار خاتون پولیس اہلکار ہے اور سپر مارکیٹ تھانے میں تعینات ہے۔ ذرائع کے مطابق مقتول حمزہ سے اس کی دوسری شادی تھی جبکہ پہلے شوہر سے اس کے تین بچے ہیں۔ مزید یہ کہ گرفتار خاتون واقعے سے ایک روز قبل اپنے سابق شوہر سے بچوں کی ملاقات کرانے بھی گئی تھی۔