دہشتگردی : قومی سلامتی کیخلاف گھناؤنی سازش

پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔


ایڈیٹوریل June 10, 2026
فوٹو: فائل

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع بسیما میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران فتنۃ الہندوستان کے 14 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا ایک اہلکار شہید ہوگیا، جب کہ پشاور کے نواحی علاقے حسن خیل میں خوارج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران بہادری اور جرات کی نئی داستان رقم کرتے ہوئے فیڈرل کانسٹیبلری کے 6اہلکار وطن پر قربان ہوگئے۔متعدد دہشت گرد بھی جہنم واصل ہو گئے۔

پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ سکیورٹی فورسز مسلسل کامیاب کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے منصوبے ناکام بنا رہی ہیں، تاہم اس خطرے کی سنگینی اس امر کی متقاضی ہے کہ قومی سطح پر اس مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے اور ایک ہمہ جہت حکمت عملی اختیار کی جائے۔ دہشت گردی کی موجودہ لہر کو محض چند الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے ایک منظم حکمت عملی کارفرما دکھائی دیتی ہے جس کا مقصد پاکستان کو داخلی طور پر غیر مستحکم کرنا، ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانا اور قومی ترقی کے عمل کو متاثر کرنا ہے۔

بلوچستان دشمن قوتوں کے لیے اس وجہ سے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے گوادر بندرگاہ، معدنی ذخائر، ساحلی پٹی اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے اس خطے کو غیر معمولی تزویراتی اہمیت عطا کرتے ہیں۔ دہشت گرد حملوں کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ سرمایہ کاروں میں خوف پیدا کرنا، ترقیاتی سرگرمیوں کو سست کرنا اور صوبے کے بارے میں منفی تاثر قائم کرنا بھی ہوتا ہے۔اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک الگ نوعیت کا چیلنج پیش کرتے ہیں۔

افغانستان میں بدلتی ہوئی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے اثرات سرحدی علاقوں پر براہ راست مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان متعدد بار یہ موقف اختیار کر چکا ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد عناصر پاکستانی علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ جب بھی سرحدی نگرانی میں کسی قسم کی کمزوری پیدا ہوتی ہے، دہشت گرد گروہ اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بارڈر مینجمنٹ، انٹیلی جنس تعاون اور سرحدی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ایسا پہلو بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے مقامی سہولت کاروں اور مخبروں کا کردار۔ کوئی بھی دہشت گرد تنظیم اس وقت تک مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتی جب تک اسے اندرون ملک سے کسی نہ کسی سطح پر مدد فراہم نہ کی جائے۔ یہ مدد معلومات کی فراہمی، رہائش، نقل و حرکت، مالی وسائل، سوشل میڈیا کے مختلف فورمز کے ذریعے ایسا بیانیہ تشکیل دینا، جو دہشت گردوں، شرپسندوں ، فرقہ پرستوں، علیحدگی پسندوں اور سماج دشمن عناصر کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے یا دیگر سہولیات کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

یہی سہولت کار درحقیقت دہشت گردی کے نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر دہشت گرد حملہ آور ہیں تو سہولت کار ان کے لیے ماحول سازگار بنانے والے عناصر ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے معاونین اور سرپرستوں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مالی معاونت دہشت گردی کی بقا کا بنیادی ذریعہ ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ جب تک دہشت گرد تنظیموں کے مالی وسائل ختم نہیں کیے جاتے، ان کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روکنا مشکل ہوتا ہے۔ دہشت گرد نیٹ ورک مختلف ذرائع سے فنڈنگ حاصل کرتے ہیں، جن میں اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، غیر قانونی تجارت اور بیرونی معاونت شامل ہو سکتی ہے۔ جدید دور میں مالیاتی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، مشتبہ لین دین کی نگرانی کرنا اور غیر قانونی رقوم کی ترسیل روکنا انسداد دہشت گردی پالیسی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف پوری قوت کے ساتھ سرگرم ہے۔ بلوچستان کے ضلع بسیما میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں متعدد دہشت گردوں کا ہلاک ہونا ایک بڑی کامیابی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ عناصر پولیس اسٹیشن اور مالیاتی اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہو سکتا تھا۔ اس آپریشن نے نہ صرف ایک خطرناک منصوبے کو ناکام بنایا بلکہ دہشت گردوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ ریاست ان کے عزائم سے پوری طرح آگاہ ہیتاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف کامیابیوں کی داستان نہیں بلکہ قربانیوں کی تاریخ بھی ہے۔

اسی کارروائی کے دوران پاک فوج کے ایک بہادر جوان نے وطن کے دفاع میں اپنی جان قربان کی۔ شہداء کی یہ قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت، جرأت اور ایثار کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی قربانیاں ملک کے امن کی بنیاد ہیں اور پوری قوم ان عظیم سپوتوں کی مقروض ہے۔دہشت گردی کے خلاف کامیابی کیلیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ اس مسئلے کی جڑیں بعض اوقات سماجی، معاشی اور فکری عوامل میں بھی پیوست ہوتی ہیں۔ پسماندگی، بے روزگاری، تعلیم کی کمی اور غلط معلومات بعض عناصر کو انتہا پسندانہ نظریات کی طرف مائل کر سکتی ہیں۔ چنانچہ ترقیاتی منصوبوں، معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع اور سماجی انصاف کے فروغ کو بھی قومی سلامتی کی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ دہشتگردی کیلیے زرخیز زمین نہیں بن سکتا۔

میڈیا کا کردار بھی اس جنگ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ذمے دار صحافت عوام کو حقائق سے آگاہ کرتی ہے، قومی شعور بیدار کرتی ہے اور دشمن کے پراپیگنڈے کا موثر جواب فراہم کرتی ہے۔ دوسری طرف غیر مصدقہ اطلاعات، سنسنی خیزی اور افواہوں کا پھیلاؤ دہشت گردوں کے مقاصد کو تقویت دے سکتا ہے۔ اس لیے ذرائع ابلاغ پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمے دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دیں۔

سوشل میڈیا نے اطلاعات کی ترسیل کو تیز تر بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ دشمن عناصر جعلی اکاؤنٹس، منظم مہمات اور نفسیاتی حربوں کے ذریعے عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں ڈیجیٹل خواندگی اور عوامی آگاہی ناگزیر ہو چکی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ ہر خبر پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے اس کی تصدیق کریں اور قومی مفاد کے خلاف چلائی جانے والی مہمات کا حصہ بننے سے گریز کریں۔

سیاسی استحکام بھی دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا ایک اہم ستون ہے۔ جب سیاسی قوتیں باہمی اختلافات کو قومی مفاد پر ترجیح دیتی ہیں تو اس کا فائدہ دشمن عناصر کو پہنچتا ہے۔ دہشت گردی کسی ایک جماعت، ادارے یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا چیلنج ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں اس معاملے پر قومی اتفاق رائے پیدا کریں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔قومی یکجہتی کی اہمیت اس حقیقت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا ہدف صرف سیکیورٹی فورسز نہیں ہوتیں بلکہ پورا معاشرہ ہوتا ہے۔ دہشت گرد خوف، بے یقینی اور تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

اگر قوم متحد رہے تو ان کے عزائم خود بخود ناکام ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، دشمن کو شکست ہوئی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو قومی بقا کی جنگ سمجھا جائے۔ سیکیورٹی فورسز اپنی ذمے داریاں نبھا رہی ہیں، لیکن عوامی تعاون کے بغیر مکمل کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ہر شہری کو اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو نفرت، تشدد یا انتشار کو فروغ دیتے ہیں۔

پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے جس نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے بڑے بڑے طوفانوں کا مقابلہ کیا ہے۔ آج بھی ملک کے پاس پیشہ ور سیکیورٹی ادارے، باشعور عوام اور مضبوط قومی عزم موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے، قومی اتحاد کو فروغ دیا جائے اور دشمن کے ہر منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے اجتماعی قوت کا مظاہرہ کیا جائے۔ یہی راستہ پاکستان کو پائیدار امن، مستحکم معیشت اور محفوظ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ صرف ریاستی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمے داری ہے اور اس ذمے داری کی ادائیگی ہی ایک پرامن اور مضبوط پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔