ورلڈ بینک کے وفد کا پاکستان آنے سے انکار ریونیو موبلائزیشن پلان پر مذاکرات تاخیر کا شکار

ٹیکس نیٹ کو توسیع دینے کے منصوبے پر فریقین میں اصولی اتفاق ہوچکا، پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لیے پر عالمی بینک کے۔۔۔


Irshad Ansari August 22, 2014
ایف بی آر ریونیو موبلائزیشن پروگرام کے تحت ڈیٹا ویئر ہاؤس بنائے گا، دستاویز، ادارے سے کرپشن کے خاتمے کے لیے ویجیلنٹ ونگ بھی قائم کیا جائے گا، ذرائع فوٹو: اے ایف پی/فائل

پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث عالمی بینک کے مشن نے پاکستان آنے سے معذرت کرلی یے جس کی وجہ سے عالمی بینک اور ایف بی آر کے درمیان ریونیو موبلائزیشن پلان پر مذاکرات بھی تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے ریونیو موبلائزیشن پروگرام پر اصولی اتفاق ہوچکا ہے مگر اس پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لیے عالمی بینک کے جائزہ مشن کے درمیان مذاکرات ہونا تھے جو نہیں ہوسکے۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ اسی پلان کے تحت ایف بی آر سے کرپشن کے خاتمے کے لیے خصوصی ویجیلنٹ ڈپارٹمنٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق عالمی بینک کے تعاون سے شروع کیے جانے والے ریونیو موبلائزیشن پروگرام کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو ڈیٹا ویئر ہاوس قائم کرے گا اور یہ ڈیٹا ویئر ہائوس قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں سود مند ثابت ہوگا، ایف بی آر کے ٹیکس حکام اس ڈیٹا ویئر ہائوس کے ذریعے لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے انہیں ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، اس کے علاوہ ایف بی آر کے موجودہ ڈیٹا سینٹر کو ری فبرش کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اور اس کے ماتحت اداروں سے کرپشن و بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے خصوصی ویجیلنٹ ونگ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ خصوصی ویجیلنٹ ڈپارٹمنٹ صرف ایف بی آر اور اس کے ماتحت اداروں کے افسران و اہلکاروں کے خلاف کرپشن و بدعنوانیوں کی شکایت کی چھان بین کرے گا اور اس ڈپارٹمنٹ میں اچھی شہرت کے حامل غیرجانبدار افسران و اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر اور اس کے ماتحت اداروں سے احتساب کے موجودہ غیرفعال اور فرسودہ نظام کو ختم کیا جائے گا اور موثر نظام متعارف کرایا جائے گا کیونکہ ابھی اگر کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف کرپشن و رشوت ستانی یا بڑے پیمانے پر غیرقانونی اثاثہ جات بنانے کی شکایت آتی ہے تو ایف بی آر اس شکایت کو متعلقہ فیلڈ فارمشنز کو بھجوادیتا ہے جہاں وہ افسران موجود ہوتے ہیں جن کے خلاف شکایات ہوتی ہیں اور وہ افسران یا تو اس شکایت کے کیس کو دبا دیتے ہیں یا اپنی مرضی کی رپورٹس مرتب کراکر بھجوادیتے ہیں لیکن نئے نظام میں ایسا نہیں ہوگا افسران و اہلکاروں کے خلاف شکایت کی تحقیقات ویجیلنس ڈپارٹمنٹ کرے گا جو غیر جانبدار ہوگا اور جو کرپش میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

علاوہ ازیں یہ ویجیلنس ڈپارٹمنٹ ایف بی آر اور اسکے ماتحت اداروں کے افسران و اہلکاروں کے اثاثہ جات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرے گا اور جن افسران کے معیار زندگی اور ان کے اثاثہ جات انکی ظاہر کردہ آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے ہونگے ان افسران کے خلاف بھی پہلے خفیہ انکوائری ہو گی اور ثبوت حاصل ہونے کے بعد باقاعدہ کارروائی کی جائے گی اور متعلقہ افسر واہلکار کو صفائی کا موقع دیا جائے گا تاہم جن افسران و اہلکار کاکرپشن میں ملوث ہونا ثابت ہوجائے گا ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔