امریکا ایران معاہدہ طے پاگیا لیکن اسرائیل کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی؛ نیتن یاہو

اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائیوں نے ایران کے جوہری عزائم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا


ویب ڈیسک June 15, 2026
امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہوگیا لیکن اسرائیل کی جدوجہد باقی ہے؛ نیتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر پہلے بار کوئی ردعمل دیا ہے جس میں وہ اپنے سابق مؤقف قائم دکھائی دیے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی صحافیوں سے عبرانی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی حکومت کا بنیادی ہدف اسرائیل کو درپیش وجودی جوہری خطرے کا خاتمہ ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سفارتی پیش رفت ہوئی ہے لیکن اسرائیل کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے باوجود واضح کیا ہے کہ اسرائیل ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا اور اس مقصد کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ کارروائیوں نے ایران کے جوہری عزائم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور اسرائیل کو ممکنہ جوہری تباہی بھی سے بچایا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے اپنے اہداف واضح طور پر متعین کیے تھے اور ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے جو کچھ ضروری ہوا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے میں ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے گا اور اپنی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جہاں سے حزب اللہ اسرائیل کے لیے خطرہ بن رہی تھی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل لبنان کے اندر قائم کیے گئے سکیورٹی زونز میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔ ہم ان سکیورٹی زونز میں ہر قیمت پر موجود رہیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے براہ راست امریکا ایران مذاکرات پر کوئی تنقید نہیں کی لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو اقتصادی ریلیف اور سفارتی فوائد فراہم کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کے کردار پر سخت نگرانی ضروری ہے۔