اردو ادب نوبل انعام سے محروم کیوں؟

اگر ہم چاہتے ہیں کہ اردو ادب میں کسی کو یہ انعام ملے تو سرکاری یا نجی شعبے میں معیاری تراجم کا اہتمام کرنا ہوگا


سہیل یعقوب June 17, 2026

ہماری ایک ادبی نشست گفتگو کے نام سے ہے اور کراچی کے اہل علم و دانش اس میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ نشست ہر ماہ کے پہلے اتوار کو شہر کے تاریخی ہوٹل جبیس میں منعقد ہوتی ہے جو ماضی میں بھی علم و ادب کا گہوارہ رہ چکا ہے۔ اس دفعہ کی نشست کا موضوع سخن تھا ’’اردو ادب نوبل انعام سے محروم کیوں؟‘‘ اس پر اس طالب علم نے جو گفتگو کی تھی وہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

نوبل انعام کا اجرا سوئیڈن کے سائنسدان اور ڈائنامائٹ کے موجد الفریڈ نوبل کے نام پر ہوا ہے۔ الفریڈ نوبل نے 1895 میں اپنی ساری دولت ایک فنڈ کےلیے وقف کردی تھی۔ 10 دسمبر 1896 کو الفریڈ نوبل کا انتقال اٹلی کے شہر سان ریمو میں ہوا تھا۔ اس کی وصیت کے مطابق اس فنڈ سے نوبل انعام کا اجرا ہوا اور پہلا انعام اس کی پانچویں برسی پر 10 دسمبر 1901 میں دیا گیا۔

ابتدا میں یہ انعام پانچ شعبہ جات میں اعلیٰ خدمات دینے والی شخصیات کو دیے جاتے تھے۔ وہ پانچ شعبہ جات تھے: طبیعیات، کیمیاء، طب اور فعلیات، ادب اور امن۔ 1968 میں اس فہرست میں معاشیات کو بھی شامل کر لیا گیا اور اس کا اجرا 1969 سے ہوا۔ انعامی رقم میں تقریباً 12 لاکھ ڈالرز، ایک اٹھارہ قیراط کا طلائی تمغہ اور ایک تعریفی سند شامل ہیں۔ ہر سال یہ انعام 10 دسمبر کو الفریڈ نوبل کی برسی کے موقعے پر دیا جاتا ہے۔ امن کا انعام ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں دیا جاتا ہے اور باقی دیگر انعامات سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں دیئے جاتے ہیں۔

1901 سے 2025 تک 118 ادب کے نوبل انعام 122 ادیبوں کو ملے ہیں۔ کچھ سال ایک ہی انعام ایک سے زائد ادیبوں کو بھی ملا ہے اس لیے ادیبوں کی تعداد انعام سے زیادہ ہے۔ ادب کا یہ انعام اب تک دنیا کی 25 زبانوں میں لکھنے والے ادیبوں کو دیا جاچکا ہے۔ جس میں سب سے زیادہ انگریزی زبان 30 مرتبہ، فرانسیسی زبان 16 مرتبہ، جرمن 14 مرتبہ، ہسپانوی 11 مرتبہ، سوئیڈش 7 مرتبہ۔ ان کے علاوہ یہ انعام روسی، اطالوی، پولش، نارویجن، ڈینش، یونانی، جاپانی، چینی، عربی، پرتگالی، ترکی اور بنگالی سمیت 25 زبانوں کے حصے میں آچکا ہے۔ جنوبی ایشیا سے پہلی بار بنگالی زبان کے مشہور شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کو 1913 میں یہ اعزاز ملا تھا لیکن یہ انعام انھیں ان کی بنگالی شاعری پر نہیں بلکہ انگریزی شاعری پر ملا تھا۔

نوبل کمیٹی کے الفاظ ہیں: He has made his poetic thought, expressed in his own English words, a part of the literature of the West

اس بات کا پتہ نوبل کمیٹی کے کاغذات سے ہوا جو میٹنگ کے پچاس سال کے بعد عوام کے مطالعے کےلیے پیش کیے جاتے ہیں۔ 2025 کا ادب کا انعام ہنگری کے مصنف لاسلو کراسناہورکائی کو دیا گیا تھا جبکہ 2024 کا انعام جنوبی کوریا کی ناول نگار ہان کانگ نے جیتا تھا۔

اب ان حالات میں یہ سوال انتہائی منطقی لگتا ہے کہ اردو ادب اب تک کیوں اس نوبل انعام سے محروم رہا یے؟ اس کی کچھ وجوہات ہیں جو ہم ایک ایک کر کے آپ کی خدمت میں پیش کریں گے اور اگر ان کا سدباب کر لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اردو ادب میں بھی کسی ادیب کو نوبل انعام مل سکتا ہے۔

سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ نوبل انعام دینے والی سوئیڈش اکیڈمی کے ارکان اردو زبان نہیں جانتے، اسی لیے یہ کمیٹی کتاب کسی یورپی زبان میں چاہتی ہیں جبکہ ہمارے یہاں تراجم کا تو کوئی رواج ہی نہیں اور معیاری تراجم تو مکمل طور پر ناپید ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اردو ادب میں کسی کو یہ انعام ملے تو سرکاری یا نجی شعبے میں معیاری تراجم کا اہتمام کرنا ہوگا۔ دوسری وجہ، اردو ادب میں زیادہ کام شاعری یا مختصر کہانیوں جنھیں ہم افسانے کے نام سے جانتے ہیں، اس پر ہوا ہے، جبکہ نوبل انعام عام طور پر ناول کو دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے پاکستان میں بین الاقوامی معیار کا ایک ہی ناول نگار پیدا ہوا تھا کہ جس کا نام عبداللہ حسین تھا اور اس کے معرکۃ الآراء ناول ’اداس نسلیں‘ کا بھی کسی یورپی زبان میں معیاری ترجمہ نہیں ہوا۔

تیسری وجہ، نوبل انعام کےلیے مصنف کی کتابوں کی عالمی سطح پر موجودگی اور مقبولیت ضروری ہوتی ہیں۔ اردو کے ناشرین اور ادیب عالمی ادبی میلوں اور پبلشنگ نیٹ ورکس سے کم ہی جڑے یا وابستہ ہوتے ہیں۔ چوتھی وجہ، نوبل انعام میں بعض اوقات عالمی سیاست اور جغرافیائی اثر و رسوخ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے یورپی زبانوں کو زیادہ پذیرائی ملتی ہے۔ پانچویں اور سب سے اہم وجہ نامزدگی کا عمل ہے کہ جس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ صرف اہل ادارے، نامور شخصیات یا ناقدین ہی کسی مصنف کو نوبل انعام کےلیے نامزد کرسکتے ہیں۔ مصنف خود بھی اپنی تصنیف کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کرسکتا۔

ہمارے یہاں نہ ناقدین کا وہ معیار ہے اور عموماً ان کے تعلقات مصنفین سے کشیدہ ہی رہتے ہیں۔ یہ تمام وجوہات تو خارجی ہیں۔ داخلی طور پر ہمارے ادیبوں اور شاعروں کی آپس کی چپقلش بھی حکومت یا نجی شعبے کو اس میں کوئی کردار ادا کرنے میں مانع ہے، کیونکہ وہ اگر کسی ایک یا چند ادیبوں کی کتابوں کا ترجمہ کروانا چاہیں گے تو ان ادیبوں پر سب کو متفق کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اردو ادب میں کسی ادیب کو یہ انعام ملے تو سب سے پہلے تو ان ادیبوں اور شاعروں کو متحد ہونا ہوگا، اس کے بعد سرکاری یا نجی شعبے سے مضبوط فائلیں معیاری تراجم کے ساتھ نوبل کمیٹی کو پیش کرنا ہوں گی۔

ہم نے اس مختصر مضمون میں ان تمام باتوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کی وجہ سے اردو ادب میں اب تک کسی ادیب کو اس کی کاوش پر نوبل انعام نہیں ملا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی اہل قوم نہیں، نہیں، بالکل نہیں۔ دو پاکستانی اب تک نوبل انعام حاصل کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسف زئی شامل ہیں۔ اگر ہم ان تمام وجوہات کو سامنے رکھ کر تیاری کریں کہ جن کا اس مضمون میں احاطہ کیا گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ اردو ادب میں بھی کسی ادیب کو ادب کا نوبل انعام ملے۔ مجھے تو پورا یقین ہے کہ میں اپنی زندگی میں کسی ادیب کو اردو زبان میں اس کی کاوش پر نوبل انعام وصول کرتا ضرور دیکھوں گا۔ انشاءاللہ۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
سہیل یعقوب
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔