غیر ملکی امداد کہاں خرچ ہوتی ہے قائمہ کمیٹی نے تفصیل مانگ لی

نیٹو، امریکا نے جان چھڑانے کیلیے دہشت گردی کیخلاف جنگ ہم پرمسلط کر دی، اب نقصان پورا کرنے کے بجائے تذلیل کی جا رہی ہے


Numainda Express September 25, 2012
نیٹو اور امریکا نے جان چھڑانے کیلیے دہشت گردی کیخلاف جنگ ہم پرمسلط کر دی، اب نقصان پورا کرنے کے بجائے تذلیل کی جا رہی ہے، فوٹو : فائل

لاہور: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے اقتصادی امورڈویژن اور فاٹاسیکریٹریٹ کیجانب سے کرم ایجنسی کے بارے میںنامکمل بریفنگ پراظہارناپسندیدگی کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میںمکمل بریفنگ دینے کی ہدایت کردی ہے۔

کمیٹی نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ کرم ایجنسی کے متاثرین کی آبادکاری کیلیے اعلان کردہ ایک ارب 86 کروڑ روپے کے بقایا86 کروڑ روپے جلدریلیزکیے جائیں،کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ساجد احمد طوری کی صدارت میں ہوا،کمیٹی نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ باقی ماندہ فنڈزفوری جاری کیے جائیں۔

کمیٹی نے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے منصوبوں پربریفنگ پرعدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے وزیراعظم سے ملاقات کافیصلہ کیاہے، وزیر سیفران انجینئر شوکت اللہ نے اعتراف کیاکہ باجوڑسے وزیرستان تک کسی ایجنسی میں نقصانات کاکوئی سروے نہیں کیاگیا۔

کمیٹی نے فاٹا کیلیے کیری لوگربل سمیت آنے والی غیرملکی امداد اور حکومت پاکستان کی جانب سے خرچ کیے جانیوالے فنڈزکی تفصیلات طلب کرلیں اورکہاکہ بتایاجائے کہ وہ کہاں خرچ ہوتے ہیں، نیٹواورامریکا نے جان چھڑانے کیلیے دہشت گردی کیخلاف جنگ ہم پرمسلط کر دی ہے۔

اب نقصان بھی پورا نہیںکر رہے بلکہ تذلیل کی جا رہی ہے۔ن لیگ کے رکن طارق فضل چوہدری نے کہاکہ کسی بھی قبائلی علاقے میں پولیٹیکل ایجنٹ کی تقرری کیلیے 10 کروڑروپے کی رشوت لی جاتی ہے۔