ناروے؛ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے والی یہود آبادکاریوں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ

اس قانون سازی پر مشاورت کیلیے عوام 19 ستمبر تک رائے دہی کرسکتے ہیں


ویب ڈیسک June 19, 2026
ناروے میں یہودی آبادکاریوں کیخلاف پابندی پر ریفرنڈم شروع

ناروے نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی آبادکاریوں کے ساتھ ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے نئے قانون کی تجویز پیش کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ مجوزہ قانون پر عوامی مشاورت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عوام 19 ستمبر تک رائے دہی کرسکتے ہیں۔

اس قانون کے تحت اسرائیلی آبادکاریوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی ہوگی جبکہ ان علاقوں کو برآمدات بھی نہیں کی جا سکیں گی۔

مجوزہ قانون میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادکاریوں میں جائیداد کی خریداری، وہاں تعمیراتی منصوبوں یا املاک کی فروخت سے متعلق خدمات کی فراہمی اور ان علاقوں میں قائم کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری یا ملکیت حاصل کرنے پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔

ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں اسی لیے ہماری حکومت ان غیرقانونی آبادکاریوں کے ساتھ تجارتی تعلقات پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق اس مجوزہ قانون پر عوامی مشاورت اس کے بعد حکومت موصول ہونے والی آراء کا جائزہ لے گی اور فیصلہ کرے گی کہ آیا اس قانون کو منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے یا نہیں۔

اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو ناروے ان چند یورپی ممالک میں شامل ہو جائے گا جو اسرائیلی آبادکاریوں کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو محدود یا ممنوع قرار دینے کے لیے باضابطہ قانون سازی کریں گے۔