ایرانی وفد امریکا سے طے پانے والے معاہدے کی جزئیات اور اس پر عمل درآمد سے متعلق بات چیت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگیا جہاں پہلے ہی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر موجود ہیں جب کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی پہنچنے ہی والے ہیں۔
ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور مہر کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ایرانی مذاکراتی وفد چند ہی لمحوں میں سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوگا جہاں امریکی نمائندوں کے ساتھ عبوری معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات کیے جائیں گے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ امریکا معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں کس طرح اور کب پوری کرے گا۔
ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس بات چیت میں معاہدے پر عمل درآمد کا واضح طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا اور اہداف کی ٹائم لائن بنائی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوران واضح طور پر اس بات پر زور دے گا کہ امریکا عبوری معاہدے میں کیے گئے تمام وعدوں پر مکمل عمل کرے۔
ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اپنے وعدوں پر عمل درآمد سے انکار کیا یا معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ایران خاموش نہیں رہے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے انحراف پر ایران شدید ردعمل دے گا اور ضروری اقدامات اُٹھائے گا۔
تاہم انھوں نے امریکی انکار کی صورت میں اُٹھائے جانے والے ایران کے ممکنہ اقدامات کی نوعیت یا تفصیلات بیان نہیں کیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایک عبوری مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت دونوں ممالک نے 60 روزہ مذاکراتی عمل پر اتفاق کیا تھا۔
اس دوران ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور دیگر متنازع امور پر جامع مذاکرات کیے جانے ہیں۔
ابتدائی طور پر مذاکرات جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھا تاہم دستاویز پر ڈیجیٹل دستخط ہونے کے بعد یہ ملاقات مؤخر کر دی گئی تھی۔
سوئٹزرلینڈ میں اب ایران اور امریکا کی ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان معاہدے کی جزئیات اور طے شدہ نکات پر عمل درآمد کی رفتار پر مذاکرات ہوں گے۔