ایران کی جانب سے دو اہم شرائط پر عمل درآمد کی یقین دہانی پر امریکا نے بھی پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری تعمیری مذاکرات کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت یقینی بنانے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے اس پیش رفت کے بعد 60 روزہ عارضی جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے تاہم یہ رعایت عارضی نوعیت کی ہے اور آئندہ اقدامات کا انحصار ایران کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد اور مذاکرات کی پیش رفت پر ہوگا۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر کی قیادت میں دنیا کو زیادہ محفوظ اور خوشحال بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
محکمہ خزانہ کا مزید کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مذاکرات کے دوران طے پانے والے فریم ورک پر عمل درآمد میں سہولت فراہم کرنا اور ایران کو اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کا موقع دینا ہے۔
واضح رہے کہ آج امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد فریقین کی تکینیکی ٹیمو کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا جس میں طے شدہ نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔