صوبائی خودمختاری کی علم بردار سندھ کی حکومت نے وفاق کو تین سال کے دوران 104 Trillion دینے پر اتفاق کیا اور اسی سال 263.67 Billion روپے کی رقم وفاق کو ادا کردی، یوں سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صوبے کا بجٹ پیش کردیا۔ سندھ میں اس وقت غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والا افراد آبادی کا 32.6 فیصد حصہ ہیں اور دیہی علاقوں میں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کل آبادی کا 37 فیصد ہیں اور کچھ علاقوں میں 50 فیصد افراد خط غربت کے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔
سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 70 لاکھ بچے اسکول نہیں جاسکے، کیا سندھ کے اس بجٹ کے منصفانہ استعمال سے غربت کی سطح کم ہوگی اور اسکول جانے والے بچوں کی تعداد بڑھے گی؟ وزیر اعلیٰ سندھ کو اسمبلی میں ان سوالات کے جوابات دینا چاہیے تھے۔ سندھ کے ترقیاتی بجٹ میں 297.41 ارب روپے کی کمی کردی گئی ہے۔ اس کمی سے تعلیم اور صحت کے شعبے براہِ راست متاثر ہوںگے۔ سندھ حکومت نے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے 241 ارب 78 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں مگر کرائم رپورٹنگ کرنے والے ایک صحافی نے بجٹ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حکومت ہر سال امن و امان کے لیے خطیر رقم مختص کرتی ہے مگر ابھی تک روایتی تھانہ کلچر تبدیل نہیں ہوسکا اور نہ ہی بنیادی پولیسنگ کے معاملات بہتر ہوسکے۔
کراچی اور دیگر شہروں میں اسٹریٹ کرائمز میں کمی نہیں آئی۔ سندھ کی حکومت گزشتہ 18 برسوں سے سیف سٹی پروجیکٹ کا نعرہ لگارہی ہے مگر صرف شاہراہِ فیصل اور چند مخصوص شاہراہوں کے علاوہ کلوز سرکٹ کیمرے ہی نصب کیے گئے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ سال ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ کیا تھا اور کلوز سرکٹ کیمروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اسکوٹروں اور کاروں کی نمبر پلیٹ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس بناء پر لاکھوں افراد نئی نمبر پلیٹ کے لیے 2 ہزار 600 روپے فی کس جمع کرانے پر مجبور ہوئے ۔ایکسائز ڈپارٹمنٹ گزشتہ 6ماہ سے اس مد میں اربوں روپے جمع کرچکا ہے تاہم نئی نمبر پلیٹ کے اجراء کا معاملہ مسلسل التواء کا شکار ہے۔ پولیس ذرائع کہتے ہیں کہ اس نئے نظام کی بدولت ٹریفک کی خلاف ورزی میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے، اگر یہ نظام اس مالیاتی سال کے دوران فعال ہوجائے تو بہت سی قیمتی جانیں بچ سکتی ہیں۔
حکومت سندھ ، پنجاب اور بلوچستان سے متصل دریائے سندھ کے کچے کے علاقہ کے ڈاکوؤں کی سرکوبی کا اعلان کرتی ہے۔ ہر چار سے چھ ماہ میں کچے کے علاقہ میں آپریشن کے لیے اسپیشل گرانٹ بھی جاری ہوتی ہے۔ ان آپریشن میں پولیس کے سپاہی اور بعض افسران جاں بحق ہوتے ہیں مگر نہ تو سندھ، نہ ہی پنجاب کی پولیس کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ اب تو یہ ڈاکو کراچی کے تاجروں کو اغواء کرکے لے جاتے ہیں۔ حکومت نے تعلیم کے لیے 583ارب روپے مختص کیے ہیں۔
سندھ میں خواندگی کا تناسب 58% سے 61% فیصد کے قریب ہے مگر دیہی علاقوں میں یہ تناسب صرف 39% ہے اور دیہی علاقوں میں خواتین میں خواندگی کا تناسب صرف 30% ہے۔ اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 70لاکھ کے قریب ہے۔ سندھ میں 2026میں بھی 7ہزار سے 11 ہزار گھوسٹ اسکول ہیں۔
ایک سروے کے مطابق ان میں سے کچھ اسکولوں کی عمارتیں تک موجود نہیں مگر عملہ اور طلبہ موجود ہیں۔کچھ اسکولوں کی عمارتیں نامکمل ہیں اور ان اسکولوں میں فرائض انجام دینے والے اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کہاں فرائض انجام دیتا ہے، سندھ کی حکومت اس بارے میں کوئی پالیسی بیان نہیں کرتی۔ ان اساتذہ میں سے بیشتر دو تین ملازمتیں کرتے ہیں۔ کچھ منتخب اراکین اور وزراء کے دفاتر اور اوطاقوں میں موجود نظر آتے ہیں۔ اندرون سندھ کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ گھوسٹ اسکولوں کے اساتذہ اور عملہ سے اگر ملاقات کرنی ہو تو انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسروں کے دفاتر اور پولنگ اسٹیشن پر ہوتی ہے۔
سندھ کی حکومت سرکاری کالجوں کی ترقی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ انٹر سائنس، کامرس اور آرٹس کے مضامین میں کالجوں میں عمومی طور پر کلاسیں نہیں ہوتیں۔ سائنس اور کامرس کے اساتذہ کا زیادہ وقت کوچنگ سینٹروں میں گزرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان لینے والے بورڈ بدترین طرزِ حکومت کا شکار ہیں۔ کراچی میں چند ماہ قبل میٹرک کے امتحانات اچانک ملتوی کیے گئے۔ پتہ چلا کہ دوسرے بورڈ کے ایک جونیئر افسر کو امتحانات کے وقت تبادلہ کرکے کنٹرولر امتحانات مقرر کیا گیا ہے مگر جس کی بناء پر امتحانات ملتوی ہوئے۔ ہزاروں طلبہ اپنے امتحانی مرکز کی تلاش میں پریشان رہے۔
امتحانات میں میرٹ کی پامالی عام سی بات ہے۔ بورڈ اور یونیورسٹیوں کے وزیر نے حسبِ معمول فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا مگر کچھ نہ ہوا۔ جدید آئی ٹی ٹیکنالوجی کے ذریعے نقل کے تدارک اور امتحانی پرچے قبل از وقت افشاء ہونے سے روکنے کے لیے اسمارٹ ایگزامینیشن روم بنانے کے بارے میں کسی بورڈ کو کوئی دلچسپی نہیں ہے، یوں سارا ملبہ غریب طلبہ پر پڑتا ہے۔ حکومت سندھ نے سرکاری کالجوں میں نئے مضامین شروع کرانے کے بارے میں کبھی سوچ و بچار نہیں کیا۔ امتحانات کو شفاف بنانے کے لیے مسلسل بحث و مباحثہ ہوجاتا ہے۔
سندھ کی خیرپور یونیورسٹی انتظامی و مالیاتی بحرانوں کا شکار ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ نے اپنے حقوق کے لیے ایک ماہ تک تحریک چلائی۔ یہی صورتحال سندھ کی دیگر یونیورسٹیوں کی ہے۔ حکومت سندھ کی مثبت بات یہ ہے کہ صرف حکومت سندھ ملک کی واحد حکومت ہے جو سرکاری یونیورسٹیوں کو خاطرخواہ گرانٹ دیتی ہے۔ سندھ نے صحت کے لیے 393ارب روپے مختص کیے۔ ڈاکٹروں کی تنظم پی ایم اے نے صحت کے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں امراض کا خاتمہ غیر سرکاری تنظیموں کو گرانٹ دینے سے نہیں بلکہ پرائمری ہیلتھ پر توجہ دینے اور امراض کے خاتمہ کے نظام پر خرچ کرنے سے ہی ہوسکتا ہے۔
کئی صحافی کہتے ہیں کہ کراچی سمیت اندرونِ سندھ کے بیشتر اسپتالوں میں ادویات دستیاب نہیں ہوتیںاور ابھی تک کراچی کے علاوہ اندرونِ سندھ کسی بھی اسپتال میں برنس وارڈ موجود نہیں۔ بلدیاتی نظام کمزور ہونے کی بناء پر پورے صوبہ میں آوارہ کتوں کی بھرمار ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کتے کے کاٹنے سے 100 کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اندرونِ سندھ کتے کے کاٹنے کے علاج کی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ ایک سال میں ایچ آئی وی وائرس سے کئی بچے ہلاک ہوئے۔
اندرونِ سندھ لاڑکانہ، رتو ڈیرو اور نواب شاہ میں ایچ آئی وی ڈی کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کوڑے کے ٹیلوں اور گندے پانی کے صاف پانی سے ملنے سے مختلف امراض کی افزائش ہوتی ہے۔ اگرچہ حکومت سندھ کی صحت کے شعبہ میں کارکردگی نسبتاً بہتر ہے مگر جب تک پورے صوبہ میں ہائی جینک کنڈیشن بہتر نہیں ہوگی امراض بڑھتے جائیں گے۔
اس بجٹ میں کراچی شہر کے لیے انڈر گراؤنڈٹرین اور الیکٹرک ٹرام کے بارے میں کوئی منصوبہ نہیں ہے اور حکومت سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے وفاق سے مدد کی امید کررہی ہے۔ حکومت نے مزدوروں کی کم از کم تنخواہ 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی ہے مگر سرکاری اداروں میں عارضی ملازمین کو یہ تنخواہ نہیں ملتی۔ نجی شعبہ تو اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہی نہیں۔ سندھ کے وزیر محنت سعید غنی بیانات تو زوردار دیتے ہیں مگر عملی صورتحال خراب ہے۔ سندھ کے بجٹ پر بغیر کرپشن عملدرآمد ہونا چاہیے، اس سے سندھ کے حالات میں خاطرخواہ تبدیلی آسکتی ہے۔