سانحہ بلدیہ گواہوں کے متضاد بیانات سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا

فیکٹری میں صبح بھی آگ لگی تھی، شریف بلوچ،نہیں لگی، عیسیٰ،صبح والی آگ کی نوعیت جاننا ضروری ہے، عدالتی ٹریبونل


Staff Reporter September 25, 2012
ملازمین کو غیرقانونی حراست میں رکھ کر من پسند بیانات کے لیے مجبورکیا جارہا ہے،شاہد بھائیلہ،مزید عینی شاہدین طلب فوٹو فائل

KARACHI: سانحہ بلدیہ کی تحقیقات میں فیکٹری کے ایک ملازم نے انکشاف کیا ہے کہ علی انٹر پرائزز میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والی آگ سے قبل بھی اسی روز صبح میں آگ لگی تھی ۔

فیکٹری کے مالکان نے بھی ٹریبونل میں اپنے وکلا کی موجودگی میں بیانات قلمبند کرائے، انھوں نے الزام عائد کیا کہ رابطہ کرنے کے باوجود فائربریگیڈ تاخیر سے پہنچی اس لیے انسانی جانوں سمیت فیکٹری میں زیادہ نقصان ہوا۔

علی انٹرپرائزز کے مالک شاہد بھائیلہ نے اپنے بیان میں ٹریبونل کو بتایا کہ پولیس فیکٹری ملازمین کو غیر قانونی حراست میں رکھے ہوئے ہے اورانہیں فیکٹری مالکان کے خلاف بیانات دینے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔

جسٹس (ر) زاہد قربان علوی پر مشتمل ٹریبونل نے پیر کو علی انٹرپرائزز کے مالکان شاہدبھائیلہ اور ارشد بھائیلہ کے علاوہ فیکٹری ملازمین شریف بلوچ اور محمدعیسیٰ کے بھی بیانات قلمبندکیے۔

ٹریبونل نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما لطیف مغل اور سماجی رہنما مسمات ریحانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایسے گواہ ٹریبونل میں پیش کریں جو سانحے کے وقت فیکٹری میںموجود تھے تاکہ ٹریبونل سچائی تک پہنچ سکے،ٹریبونل نے مالکان کو مناسب حفاظت میں فیکٹری کا دورہ کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

شاہد بھائلہ نے بتایا کہ وہ اور ان کے بھائی فیکٹری میں موجود تھے،کسی دفتری کام سے انھوں نے ٹیلیفون کے ذریعے فیکٹری منیجر منصور سے رابطہ کیاتو وہ دوسری منزل پر تھا،منصور نیچے پہنچا تو اکائونٹنٹ مجید چلاتا ہواآگ آگ کی آواز لگاتا ہوا آیاتو ہم نے دیکھا کہ گودام کے درمیانی حصے میں آگ لگی تھی اور شعلے بلندہورہے تھے،فوری طور پر بجلی کا مین سوئچ بند کردیا گیا۔

فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد پہنچی، فیکٹری کے تمام دروازے کھلے ہوئے تھے،اس سوال پر کہ وہ فیکٹری میں تنخواہوں کی ادائیگی کا دن تھا ؟ تو شاہد بھائیلہ نے بتایا کہ فیکٹری میں ٹھیکیداری نظام تھا اس لیے تنخواہوں کی ادائیگی کا ٹھیکیدار کو ہی علم ہوتا ہے۔

منصور کے بارے میں کوئی علم نہیں،مجید ایک ہفتے سے پولیس کی تحویل میں ہے اور اسے فیکٹری مالکان کے خلاف بیان دینے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے ، ارشد بھائیلہ نے شاہد بھائیلہ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے اسے اپنا بیان قراردیا تاہم پیر کو پہلی بار دو غیر سرکاری گواہ ٹریبونل میں پیش ہوئے ۔

انہیں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنمائوں نے حقائق بتانے کے لیے ٹریبونل پہنچایا تھا، فیکٹری ملازم شریف بلوچ نے ٹریبونل کو بتایا کہ وہ علی انٹرپرائزز میں کٹنگ ڈپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا اور اس کا ڈپارٹمنٹ دوسری منزل پر تھا،آگ تقریباشام6.30بجے لگی،دوسری منزل پر 350افرادکام کرتے تھے جن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

آگ تیزی سے اوپر کی جانب آئی تو اس کی حدت اور دھوئیں سے دم گھٹنے لگا ،اکثر لوگ بیہوش ہوگئے کیونکہ اندھیرے اور دھوئیں کے باعث کچھ نظرنہیں آرہا تھا،باہر سے کسی نے کھڑکی توڑی توپھنسے ہوئے افراد نے کھڑکی سے کودنا شروع کردیا

پہلے رسی کے ذریعے خواتین کو اتارنے کی کوشش کی تو رسی ٹوٹ گئی،باہر سے سیڑھی لگائی تو پہلے تین خواتین کو باہر نکالا جن کی حالت بہت خراب تھی پھر اپنے والد کے ساتھ نکلا جو کہ اسی فیکٹری میں ملازم تھے،گواہ نے بتایاکہ اس دن صبح11بجے بھی آگ لگی تھی جو 10منٹ کی کوشش کے بعد بجھادی گئی۔

گواہ بتایا کہ وہ تنخواہ کا دن تھااور ملازمین کی چھٹی7بجے ہوتی تھی،محمدعیسیٰ نے ٹریبونل کو بتایا کہ وہ گرائونڈفلورپر کام کرتا تھااور شام کو گرائونڈ فلور پر ہی پہلے گودام میں آگ لگی چونکہ آگ جس جگہ لگی عین اسی جگہ اوپرسے آنے والا زینہ اترتا ہے جس کی وجہ سے لوگ نکل نہیں سکے،ہمت کرکے بعض افراد آگ میں کود کرنکل آئے،اس سے قبل فیکٹری میں دو دفعہ آگ لگ چکی ہے۔

مگر اس دن صبح کوئی آگ نہیں لگی۔ٹریبونل نے آبزروکیا کہ گواہوں کے بیانات کے تضاد کے باعث معاملہ مزید الجھ گیاہے اور مزید عینی شاہدین کے بیانات کی ضرورت ہے،کیونکہ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ صبح لگنے والی آگ کی نوعیت کیاتھی اور اسے بجھانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے،ٹریبونل نے سماعت منگل تک ملتوی کردی۔