حکومتی خط سے مقدمات نہ کھلے توکمپرومائزسمجھاجائیگاطلعت

جو خط لکھا جائیگا عدالتی فیصلے کے مطابق نہیں ہوگا ،سپریم کورٹ کی رٹ ثابت ہوگی،حامدمیر


Monitoring Desk September 25, 2012
آج کا دن پہلے والے دنوں سے بہتر ہوگا: محمدمالک’’کل تک‘‘میں جاویدچوہدری سے گفتگو فوٹو : فائل

KARACHI: اینکر پرسن طلعت حسین نے کہا ہے کہ اگر حکومت کے لکھے گئے خط سے مقدمات نہیں کھلتے تو سب یہی سمجھیں گے کہ کمپرومائز ہوگیا ہے۔

فیڈریشن تو یہ کہتی ہے کہ آپ چاہے مقدمہ چلائیں لیکن آصف زرداری جب تک صدر ہیں ان کو نہ بلایا جائے۔

پروگرام کل تک میں اینکر پرسن جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ حکومت اور عدلیہ نے بہت شدت کی پوزیشن اختیار کی ہے اور بدقسمتی سے عدلیہ زیادہ اچھی طرح ابھر کرسامنے نہیں آئے گی۔ اگر خط لکھنا ہی تھا تو پھر گیلانی یہ سوال ضرورپوچھیں گے کہ میرا کیا قصور تھا؟

ان کے جانے سے تو غلام اسحاق خان کی یاد آجاتی ہے۔ گیلانی اور اعتزاز احسن نے جو لائن اختیار کی وہ ایوان صدر سے ملی تھی۔ دوسرے لفظوں میں صدر نے گیلانی کو وکیل دیا تھا۔ حکومت کے چکر ڈالنے کے لیے گرائونڈ بہت چھوٹا پڑ گیا ہے اور راجا صاحب نے جتنے اچھے فقرے بولنے تھے بول لیے ہیں۔

فاروق ایچ نائیک کی جیب میں کو ئی نہ کوئی فارمولہ ضرور ہے۔ اٹارنی جنرل اور فیصل رضا عابدی کو ایوان صدر سے گو آہیڈ ملا تھا۔ صحافی حامد میر نے کہاکہ اسلام آباد سازشوں کا شہر ہے جو خط لکھا جائے گا، وہ عدالت کے فیصلے کے مطابق نہیں ہوگا جس پر حکومت عدالت سے ایک نئی تاریخ لینا چاہے گی۔

اس سارے قصے میں سپریم کورٹ کی رٹ ثابت ہوگی۔ صدر کی نظر میں فاروق ایچ نائیک کی اہمیت گیلانی سے زیادہ ہے اور ایسا نہیں ہوگا کہ ان کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔

گیلانی نے 2009ء سے صدر پر تنقید شروع کردی تھی وہ کہاکرتے تھے کہ میں پیپلزپارٹی کا وزیراعظم نہیں ہوں، سارے پاکستان کا وزیراعظم ہوں۔ وہ صدر کے احکام بھی نہیں مانتے تھے ۔گیلانی نے اسٹیبلشمنٹ سے کچھ وعدے کیے جو پورے نہ ہوسکے اور پھر گیلانی کے خلاف ایک ایک کرکے مقدمات کھلنا شروع ہوگئے۔

فاروق ایچ نائیک نے پچھلے دنوں کافی غیر ملکی دورے کیے ہیں ان کا ہوم ورک کافی ہوچکا ہے۔ صحافی محمد مالک نے کہاکہ آج کا دن پہلے والے دنوں سے بہتر ہوگا۔ استثنیٰ پر لے دے ہوگی لیکن ہم پیچھے نہیں، آگے جائیں گے۔گیلانی کا جانا طے تھا خط لکھنا یا نہ لکھنا ایک الگ ایشو ہے اور ویسے بھی وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کا قد بہت بڑا ہوچکا ہے اور ان کو نکالا نہیں جاسکتا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق تو یہ طے ہے کہ حکومت نے پہلا خط واپس لینا ہے اور نیا خط لکھنا ہے لیکن وہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہو۔ حکو مت کا بھی کلیم واضح ہے کہ خط لکھتے ہیں کیس بھی چلیں لیکن صدر کو نہ بلایا جائے۔