’’امجد بیٹا، کام سے کس وقت لوٹو گے؟‘‘
سعدیہ بیٹا، آپ کی امتحان کی تیاری کیسی جا رہی ہے؟‘‘
’’سہیل بیٹا، آپ کے لیے کھانا بنا دوں؟‘‘
’’راحیلہ پتر، کس رنگ کے کپڑے لاؤں تمہارے لیے؟‘‘
’’ناظم پتر، کیا حال ہے تمہاری اماں کا؟‘‘
’’ریشم بیٹا، کیا ارادے ہیں تمہارے مستقبل کے؟‘‘
آپ کو یہ فقرے پڑھ کر فوی طورپر سمجھ نہیں آئے گی کہ ان فقروں میں ایسا خاص کیا ہے لیکن اگرانھیں دوبارہ پڑھیں، گہری نظر سے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ان میں کیا چھپا ہے جو اس وقت میرا موضوع ہے۔ اب آپ بتائیں کہ کیا آپ نے کبھی ایسا کہا ہے۔
’’کمال بیٹی، میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے باہر تک چھوڑ دینا۔‘‘
’’ناصر دھیئے! کیا کام کرتی ہو آج کل؟‘‘
’’راحیل بٹیا ، کیا حال ہے تمہاری اماں کا؟‘‘
’’سمیر بیٹی، کیا تاریخ مقرر ہوئی ہے تمہاری بہن کی شادی کی؟‘‘
نہیں کہا نا… اس لیے کہ کسی لڑکے کو لڑکی کہا جائے تو اس کی مردانگی کی توہین ہوتی ہے اور سننے والوں کو بھی برا لگتاہے کہ یہ کیسا طرز تخاطب ہے، ایسا تو صرف لڑکیوں کو کہا جاتا ہے۔ لڑکیاں بہت قابل ہو جائیں، گھروں کے بوجھ اٹھا لیں یا کسی بھی میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑیں تو والدین اس فخر کا یوں اظہار کرتے ہیںکہ سامیہ ہماری بیٹی نہیں بیٹا ہے، رقیہ ہمارا فخر ہے، ہمارا بیٹا ہے۔ کسی کے ہاں بیٹا نہ ہو تو یہ جملے ہر بات میں دہرائے جاتے ہیں کہ ان کی بیٹیوں نے انھیں کبھی بیٹوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی کیونکہ وہ اتنی قابل اور پر اعتماد ہیں۔ حیرت ہے کہ ہم عقل، ذہانت، بہادری، قابلیت اور بوجھ اٹھانے جیسی خصوصیات کو صرف لڑکوں سے مختص کرتے ہیں اور بیٹیوں کی کسی بات کی تعریف کرتے وقت انھیں بیٹے جیسا کہہ دیتے ہیں۔ بیٹی کو بیٹا یا پتر کہہ کر بلانے سے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے بیٹی کو بیٹی سے بڑھ کر درجہ دے دیا ہے۔
بیٹوں کی تعریف کرنا ہو تو صرف اس وقت ہم لڑکیوں جیسا کہتے ہیں کہ اگر کسی گھر میں صرف بیٹے ہی بیٹے ہوں اور کوئی بیٹا کام کار میں ماں کا ہاتھ بٹا دے تو ماں کہتی ہے کہ اسے فلاں بیٹے نے بیٹی کی کمی نہیں محسوس ہونے دی، یہ تب بھی نہیں کہے گی کہ میرا بیٹا نہیں بیٹی ہے۔ اگر کسی بچے کا رشتہ طے کرنے کا مرحلہ ہو تو اس وقت کہا جاتا ہے کہ ہمارے بیٹے میں لڑکیوں جیسی حیا ہے، گویا حیا ایک اضافی وصف ہے جو کہ عموماً لڑکوں میں ہوتا نہیں یا نہیں ہونا چاہیے مگر آپ کے بیٹے میں ہے۔ بیٹے پر غصہ ہو، اسے ڈانٹنا ہو تو کہتے ہیں:
’’ کیا ہر وقت لڑکیوں کی طرح بات بے بات رونے کو تیار ہوتے ہو، لڑکے نہیں روتے۔‘‘
’’ کیا لڑکیوں کی طرح عورتوں کے بیچ بیٹھ کر باتیں سنتے رہتے ہو، بھاگو یہاں سے۔‘‘
یہ کس طرح کا تضاد ہے، اس دور میں جب لڑکیاں لڑکوں کے شانہ بشانہ نہیں بلکہ ان سے چار قدم آگے ہی چل رہی ہیں، اس دور میں بھی ہم اسے وہ پہچان اور مان نہیں دینا چاہتے جو اس کا حق ہے۔ دنیا کی کسی بھی زبان میں آپ نے کبھی سنا کہ والدین بیٹی کو بیٹا یا اس نوعیت کے طرز سے مخاطب کریں یا اس کی تعریف کرتے سمے کہیں کہ یہ ہماری بیٹی نہیں، بیٹا ہے؟ ماسوائے ہمارے برصغیر پاک و ہند کے یا بنگلہ دیش وغیرہ، یہی ممالک جن میں بیٹی تیسرے درجے کی شہری رہی ہے اور اب بھی ہے۔ ہمارے اندر تک جڑیں گاڑ کر بیٹھی ہوئی بیٹے کی خواہش اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ بیٹے کی خواہش میں ہم جانے سات سات بیٹیاں پیدا کر کے بھی توقع کرتے ہیں کہ اس کے بعد تو بیٹا ہو گا ہی۔ ان کے ایسے نام رکھتے ہیں، بشری ٹائپ کہ یقین ہوتا ہے کہ یہ نام رکھنے کے بعد ضرور بیٹا پیدا ہو گا۔
ابھی بھی بیٹے کی پیدائش کی خبر ڈاکٹر اور دائیاں کھلے ہوئے چہرے کے ساتھ اور ہنس کر دیتے ہیں اور بیٹی پیدا ہوتی ہے (ماسوائے چند ایک کیسز کے) تو چہرے لٹکے ہوئے ہوتے ہیں، خبر سنانے والیاں بھی خود کو مجرم سمجھ رہی ہوتی ہیں۔ بیٹوں کی پیدائش پر باجے گاجے بجتے اور بیٹیاں اپنے ساتھ ایک پراسرار سی خاموشی لے کر آتی ہیں۔ آج کے دور میں، انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کو بھی بیٹی کی پیدائش ایک انجانے سے خوف میں مبتلا کردیتی ہے، انھیں کئی خدشات آن لیتے ہیں۔ پہلی بار بیٹی کو اٹھاتے ہی کہیں سے یہ سوچ در آتی ہے کہ یہ ہمارے پاس کسی کی امانت ہے، اسے ہم نے کئی سال کے لیے اپنے پاس رکھنا ہے اور پھر ایک دن کوئی آئے گا اور اسے ہم سے لے جائے گا، اس کی نئی زندگی کا آغاز ہوگا مگر ہمارا آنگن ویران ہوجائے گا۔
ہر روز ٹیلی ویژن اور اخبار میں جیسی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں، وہ اور بھی ڈرا دینے والی ہوتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیںکہ بیٹی کی پیدائش سے ڈر نہیں لگتا، اس کے نصیب سے ڈر لگتا ہے، اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں۔ صرف ہمار ے ہاں ہی نہیں، دنیا بھر میں اس وقت شادیوں کے ٹوٹنے کی شرح خطر ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اپنی بیٹیوں کے لیے لوگوں کے اور معیار اور پیمانے ہیں اور دوسروں کی بیٹیوں کے لیے اور، یہ ایک قدرتی بات ہے۔ بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر وداع کرنے والے باپ کا ہاتھ بھی لرز رہا ہوتا ہے کہ اس کی بیٹی نہ صرف اسے چھوڑ کر جا رہی ہے بلکہ اس سے اس کا میکہ اور وہاں رہنے والے سب لوگ چھوٹ رہے ہوتے ہیں۔ جس بیٹی کو والدین پیار اور مان کے ساتھ پالتے ہیں، اس کی خاطر نیندیں تجی ہوتی ہیں، اس کی خواہش پر اپنی کئی خواہشیں قربان کی ہوتی ہیں اور جواب میں اس بیٹی نے بھی انھیں اتنا ہی پیار دیا ہوتا ہے، جانے اس پیاری سی بیٹی کے لیے سسرال میں بھی کوئی قدر دان ہوگا؟
بیٹی کو پکارنے کے لیے وہ طرز تخاطب استعمال کریں جو کہ اس کا ہونا چاہیے تو تب علم ہو گا کہ آپ بیٹی کو بیٹی ہی سمجھ رہے ہیں، آپ کے لاشعور میں ایسی کوئی سوچ نہیں ہے کہ وہ بیٹوں سے کسی بھی لحاظ سے کمتر ہے، اسے بیٹی کہہ کر بلائیں گے تو اس میں آپ کی توہین نہیں ہے۔ بد قسمتی سے ہماری بیٹیو ں کو بھی عادت ہو گئی ہے کہ ایسا کہنا کوئی برا نہیں ہے، ہمیں بھی جب کسی نے فخر سے تعارف کروانا ہوتا تھا تو بیٹا کہہ کر ہی کہا جاتا تھا اور ہمیش اسی طرز سے پکارا جاتا رہا ہے اور پکارا جا رہا ہے۔ میرے ابا جی مرحوم نے بھی مجھے بیٹا کہہ کر پکارا اور مجھے فخر کا احساس دلانے کے لیے کہا کہ میں ان کا بیٹا ہوں… میرے نام سے ہی انھوں نے میرا ایک بیٹوں والا نام رکھ لیا تھا جو کہ میری بہادری کی علامت بھی تھا، ہم بیٹاں تو اسی سے خوش ہوجاتی ہیں۔
ہم اپنے ہر ہر عمل سے نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹیوں کے درجے اور مقام کو ابھی تک بیٹوں سے کمتر جانتے ہیں اور ا س کا عملی اظہار کرتے ہیں حالانکہ ہم زبان سے بارہا یہ کہتے ہیں کہ جی اب پرانی سوچیں ختم ہوئیں، نیا زمانہ ہے، بیٹے اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں ہے… اگر ایسا ہے تو آج سے اپنے بیٹے کو بیٹی، د ھی یا بٹیا کہہ کر پکاریں۔ اگر ایسا کرنا برا لگتا ہے تو بیٹی کو تو کم از کم بیٹی، بٹیا یا دھی رانی کہہ کر پکاریں اور اسے بیٹی ہونے کا مان دیں۔ جانے اس کا آغاز کب سے اور کیسے ہوا، کس نے پہلی بار بیٹی کو بھی بیٹا کہہ کر پکارا ہو گا لیکن اب اس کا اختتام ہم کر سکتے ہیں۔ اپنی بیٹیوں کو بیٹی، بٹیا، دھی رانی، دھئیے، میری شہزادی، میری لاڈو رانی، میری چاندنی، میری گڑیا کے ناموں سے پکاریں تو اسے بھی اور آپ کو بھی محسوس ہوگا کہ اب ہم نے واقعی ترقی کر لی ہے۔