حماس نے غزہ کی حکومت سے دستبردار ہوتے ہوئے کار مملکت چلانے والی ایمرجنسی کمیٹی تحلیل کردی اور اختیارات قومی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کی گورنمنٹل ایمرجنسی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی انتظامی ذمہ داریاں ختم کرتے ہوئے اختیارات نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔
غزہ قومی نیشنل کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے کہا ہے کہ کمیٹی کو جو بھی قومی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی وہ انہیں ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم اس کے لیے ضروری وسائل، اختیارات اور عملی حالات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی مطلوبہ انتظامی اور مالی سہولیات میسر آئیں گی کمیٹی غزہ کے روزمرہ سرکاری امور سنبھال لے گی۔
حماس کی ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل اور اختیارات نیشنل کمیٹی کو منتقل کرنے کا مقصد جنگ کے بعد غزہ میں ایسا انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جو بین الاقوامی سطح پر قابلِ قبول ہو، انسانی امداد کی تقسیم کو مؤثر بنائے اور تعمیرِ نو کے عمل کو تیز کر سکے۔
غزہ کی گورنمنٹل ایمرجنسی کمیٹی کب بنی تھی؟
گورنمنٹل ایمرجنسی کمیٹی دراصل غزہ میں حماس کی حکومت کی جانب سے جنگ کے دوران تشکیل دی گئی تھی تاکہ اسرائیلی حملوں کے باعث تباہ ہونے والے سرکاری ڈھانچے کے باوجود روزمرہ انتظامی امور جاری رکھے جا سکیں۔
تاہم اب غزہ کی ہنگامی بنیادوں پر قائم کی گئی گورنمنٹل ایمرجنسی کمیٹی نے انتظامی امور غزہ کی نیشنل کمیٹی کے سپرد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیشنل کمیٹی کیا ہے؟
نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کی ایک عبوری سول انتظامیہ ہے جسے جنگ کے بعد غزہ میں بنیادی حکومتی اور شہری خدمات کی بحالی کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
یہ کمیٹی جنوری 2026 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور غزہ جنگ بندی کے امریکی معاہدے (بورڈ آف پیس) کے تحت قائم کی گئی جس کا مقصد غزہ میں مستقل سیاسی انتظام قائم ہونے تک ایک غیر عسکری اور تکنیکی انتظامی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔
یہ ایک ٹیکنوکریٹک حکومتی ڈھانچہ یے جس میں کسی ایک سیاسی جماعت کی حکومت نہیں ہے بلکہ اس میں 15 کے قریب آزاد ماہرین اور ٹیکنوکریٹ فلسطینی شامل ہیں جن کا تعلق غزہ سے ہے جب کہ اس کمیٹی کے سربراہ یعنی چیف کمشنر فلسطینی اتھارٹی کے سابق ڈپٹی وزیر اور انجینئر ڈاکٹر علی شعث ہیں۔
اس کمیٹی کی ذمہ داریاں سرکاری محکموں کی نگرانی، صحت، تعلیم، بلدیات اور پانی و بجلی سمیت بنیادی خدمات کی بحالی، سرکاری ملازمین کے امور کی نگرانی، امداد کی تقسیم میں تعاون، بین الاقوامی اداروں اور امدادی تنظیموں سے رابطہ، تعمیرِ نو اور شہری انتظام کو منظم کرنا ہے۔
یہ کمیٹی سیاسی حکومت نہیں بلکہ ایک عارضی انتظامی ادارہ ہے جو غزہ پیس کونسل کے ماتحت کام کرتا ہے اور اسی کو جواب دہ ہے۔
علی شعث کون ہیں؟
علی عبد الحمید شعث ایک فلسطینی سول انجینئر، ترقیاتی ماہر اور سابق اعلیٰ سرکاری عہدیدار ہیں جنہیں جنوری 2026 میں نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
وہ 14 جولائی 1958 کو غزہ کے علاقے خان یونس میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ کی عین شمس یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ میں ڈگری لی اور پھر برطانیہ کی کوئنز یونیورسٹی بیلفاسٹ سے انفراسٹرکچر پلاننگ اور شہری ترقی میں پی ایچ ڈی کیا۔
علی شعت نے فلسطینی اتھارٹی میں نائب وزیر برائے منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون، وزارتِ ٹرانسپورٹ کے انڈر سیکریٹری، فلسطینی ہاؤسنگ کونسل، پورٹس اتھارٹی اور انڈسٹریل اسٹیٹس اینڈ فری زونز اتھارٹی کے سربراہ سمیت متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
اگرچہ ماضی میں فلسطینی اتھارٹی اور فتح سے وابستہ اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں لیکن انھیں عمومی طور پر ایک ٹیکنوکریٹ شخصیت سمجھا جاتا ہے جو اب غزہ کی 15 رکنی عبوری تکنیکی کمیٹی کی قیادت کریں گے۔
غزہ پیس کونسل کیا ہے؟
غزہ پیس کونسل جنگ بندی معاہدے کے بعد قائم کیا گیا ایک عبوری نگران ادارہ ہے، جس میں فلسطینی نمائندوں، تکنیکی ماہرین اور بین الاقوامی شراکت داروں کی مشاورت سے غزہ کی عبوری حکمرانی کی نگرانی کی جاتی ہے۔
اسی کونسل کو نیشنل کمیٹی کے ارکان مقرر کرنے اور اس کی کارکردگی کی نگرانی کا اختیار حاصل ہے۔
غزہ کی حکومت کی تاریخ
غزہ کی موجودہ حکومتی ساخت کی بنیاد 2007 میں اس وقت پڑی جب حماس نے فتح کے ساتھ مسلح تصادم کے بعد غزہ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔
اس کے بعد سے غزہ میں حماس نے اپنی الگ انتظامیہ قائم رکھی، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت برقرار رہی۔
غزہ حکومت کے پہلے سربراہ اسماعیل ہنیہ تھے جو 2007 سے 2014 تک حماس کی حکومت کے سربراہ رہے۔
اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد رامی حمد اللہ کی قومی مفاہمتی حکومت کا اعلان ہوا تاہم غزہ میں عملی اختیارات زیادہ تر حماس ہی کے پاس رہے۔
یحییٰ السنوار اگرچہ وزیر اعظم نہیں تھے لیکن 2017 کے بعد غزہ میں حماس کے سب سے بااثر سیاسی رہنما سمجھے جاتے رہے۔
اسرائیلی حملوں اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت بعد غزہ کے انتظامی امور مختلف حکومتی کمیٹیوں اور حماس کے مقرر کردہ سرکاری اداروں کے ذریعے چلائے جاتے رہے تھے۔