خامنہ ای کے خون کا بدلہ؛ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

وہ ہمارے امام کو قتل کرگئے اب ہمیں بھی ان کے رہنما ٹرمپ کو قتل کرنا چاہیے


ویب ڈیسک July 06, 2026

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور سوگ کی مرکزی تقریب کے دوران امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی.

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کھلی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنے رہبر کے قاتل کو قتل نہ کریں تو یہ ہمارے لیے باعثِ شرم ہوگا۔

نماز جنازہ میں شریک لاکھوں سوگوار سیاہ لباس میں ملبوس تھے اور ایران کے پرچموں کے ساتھ ایسے بینرز اور پوسٹر بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو قتل کرنے کے مطالبات درج تھے۔

نماز جنازہ کے جلوس کی گزر گاہوں پر بھی دیواروں اور چوراہوں پر بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے قتل کے مطالبے پر مبنی بینرز آویزاں تھے اور جابجا امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد  کے نعروں کی چاکنگ بھی ہوئی تھی۔

نماز جنازہ کی مرکزی تقریب کی میزبانی کرنے والے ایرانی شاعر محمد رسولی نے اجتماع سے خطاب میں امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے پرجوش نعرے بھی لگوائے۔

انھوں نے مجمع سے سوال کیا کہ دنیا کا سب سے بڑا بدبخت انسان (ٹرمپ) اب تک زندہ کیوں ہے؟" اس پر شرکا نے بھرپور نعرے بازی کی۔

بعد ازاں انھوں نے کہا کہ جس شخص نے میرے امام کو قتل کیا، اسے کیوں نہ مارا جائے؟ اگر ہم اپنے رہبر کے قاتل کو قتل نہ کریں تو یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہوگی۔

یہ پہلا موقع قرار دیا جا رہا ہے کہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران کسی سرکاری تقریب میں ٹرمپ کی جان لینے کی اس قدر براہِ راست بات کی گئی۔

اسی طرح نماز جنازہ میں شریک عوام کی بڑی تعداد نے امریکا اور اسرائیل سے انتقام لینے کے مطالبات کیے۔ ایک نوجوان غلام رضا صابونی نے کہا کہ وہ ہمارے امام کو قتل کرگئے اب ہمیں بھی ان کے رہنما ٹرمپ کو قتل کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ بغداد میں 2020 کو ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں شہادت کے بعد سے امریکی صدر کو ایران کی جانب سے قتل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

ایران کے نائب صدر اوّل محمد رضا عارف نے کہا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں ان کے قتل کے ذمہ دار "قاتل دہشت گردوں" کو سزا دینے کا جو مطالبہ کیا گیا، وہ جائز ہے اور بین الاقوامی قانون میں تسلیم شدہ حقِ دفاع کے اصولوں کے مطابق ہے۔