کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی بلند عمارتوں، شاہراہوں یا ترقیاتی منصوبوں میں نہیں بلکہ اس کے نوجوانوں کے خوابوں، صلاحیتوں اور روزگار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
جب ایک نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد باعزت روزگار حاصل کرتا ہے تو صرف اس کی زندگی نہیں بدلتی بلکہ ایک پورا خاندان معاشی استحکام کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن جب تعلیم یافتہ نوجوان کو ملازمت نہیں ملتی تو اس کی مایوسی پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر وہ اپنی محنت، قابلیت اور علم کے ذریعے بچوں کو پڑھا کر باعزت روزگار کمانے کی کوشش کرے تو ریاست کی ذمے داری بنتی ہے کہ اس کے راستے آسان کرے، نہ کہ مزید مشکلات پیدا کرے۔
حال ہی میں پنجاب کے مختلف شہروں بالخصوص لاہور، ڈیرہ غازی خان کے نجی تعلیمی اداروں میں پیش آنے والے المناک حادثات پوری قوم کے لیے باعثِ افسوس تھے۔ معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع ایسے سانحات ہیں جس پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ ایسے واقعات میں ذمے داروں کا تعین ہونا چاہیے، حفاظتی نظام بہتر ہونا چاہیے اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ ایک حادثے کے بعد پورے شعبے کو سزا نہ دی جائے۔ کسی ایک عمارت کی کمزوری کی قیمت لاکھوں نوجوانوں کے روزگار سے وصول کرنا انصاف نہیں بلکہ ایک نئی معاشی اور سماجی مشکل پیدا کرنا ہے۔
پاکستان خصوصاً پنجاب میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوان اس وقت ٹیوشن پڑھا کر اپنا اور اپنے خاندان کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے برسوں محنت کرکے گریجویشن، ماسٹرز، ایم فل اور دیگر اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں، لیکن محدود ملازمتوں اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث انہیں سرکاری یا نجی شعبے میں مناسب مواقع نہیں مل سکے۔ انہوں نے حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے خود اپنے لیے روزگار پیدا کیا۔ انہوں نے اپنے گھروں کے ایک کمرے، کسی گلی کے چھوٹے سے ہال یا کرائے کی عمارت میں بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔ آج یہی ٹیوشن سینٹر ہزاروں خاندانوں کی معاشی زندگی کا سہارا ہیں۔
اس شعبے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس نے خواتین کے لیے بھی باعزت روزگار کے دروازے کھولے ہیں۔ بے شمار پڑھی لکھی بیٹیاں اور خواتین، جو مختلف وجوہات کی بنا پر دفاتر یا دور دراز مقامات پر ملازمت نہیں کر سکتیں، اپنے گھروں میں بچوں کو تعلیم دے کر نہ صرف اپنی شناخت قائم کر رہی ہیں بلکہ اپنے والدین، شوہروں اور بچوں کا معاشی بوجھ بھی بانٹ رہی ہیں۔ اگر یہ مواقع ختم کر دیے جائیں تو سب سے زیادہ متاثر یہی طبقہ ہوگا، جس کے پاس پہلے ہی روزگار کے محدود ذرائع موجود ہیں۔
حکومت پنجاب کے پاس آج ایک ایسا سنہری موقع موجود ہے جس سے نہ صرف لاکھوں نوجوانوں کو روزگار دیا جا سکتا ہے بلکہ تعلیمی معیار بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے ہر شہر، ہر قصبے اور تقریباً ہر یونین کونسل میں سرکاری اسکول موجود ہیں۔ یہ اسکول صبح سے دوپہر تک طلبا سے آباد رہتے ہیں، لیکن دو یا ڈھائی بجے کے بعد ان کی کلاسیں، فرنیچر، کھیل کے میدان اور دیگر سہولیات کئی گھنٹوں تک خالی پڑی رہتی ہیں۔ یہ سرکاری اثاثے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے تعمیر ہوئے ہیں، مگر دن کے نصف حصے میں ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جاتا۔
ذرا تصور کیجیے کہ اگر یہی سرکاری اسکول شام تین بجے سے رات سات یا آٹھ بجے تک تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے لگیں تو اس کے کتنے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ایک طرف لاکھوں نوجوانوں کو باعزت روزگار میسر آئے گا، دوسری طرف والدین کو محفوظ ماحول میں اپنے بچوں کو پڑھانے کی سہولت حاصل ہوگی۔ طلبا کو بہتر کلاس روم، مناسب فرنیچر، کشادہ ماحول اور تعلیمی فضا ملے گی، جبکہ حکومت کو کسی نئی عمارت کی تعمیر پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔
یہ تجویز صرف روزگار کا مسئلہ حل نہیں کرے گی بلکہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو بھی مضبوط بنائے گی۔ ہمارے ملک میں بہت سے ایسے بچے ہیں جو اسکول میں پڑھنے کے باوجود کسی مضمون میں کمزور رہ جاتے ہیں۔ والدین انہیں ٹیوشن ضرور پڑھانا چاہتے ہیں، لیکن محفوظ اور مناسب جگہ کی تلاش ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ اگر شام کے وقت یہی سرکاری اسکول بچوں کی اضافی تعلیم کے مراکز بن جائیں تو والدین کا اعتماد بھی بڑھے گا اور بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
اس منصوبے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ سرکاری اسکول شام کے اوقات میں بھی زندہ تعلیمی مراکز بن جائیں گے۔ آج سرکاری عمارتیں کئی کئی گھنٹے خاموش اور بند رہتی ہیں، جبکہ انہی کمروں میں شام کے وقت علم کے چراغ روشن کیے جا سکتے ہیں۔ ایک ہی عمارت صبح سرکاری اسکول اور شام کو تعلیمی معاونت کا مرکز بن سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں سرکاری تعلیمی اداروں کو شام کے اوقات میں کمیونٹی ایجوکیشن، ہنر سکھانے اور اضافی تدریس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ ماڈل وہاں کامیاب ہو سکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟
اس اقدام سے حکومت کو ایک اور اہم فائدہ بھی حاصل ہوگا۔ نئے تعلیمی مراکز قائم کرنے کے لیے الگ سے زمین، عمارت، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ پہلے سے موجود سہولیات ہی بہتر انداز میں استعمال ہوں گی۔ اس طرح سرکاری وسائل کا زیادہ مؤثر استعمال ممکن ہوگا اور عوام کے ٹیکس سے بنائی گئی عمارتیں حقیقی معنوں میں عوام ہی کے کام آئیں گی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو بے روزگاری سے نکالنے کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر روزگار کی منڈی میں آتے ہیں، مگر نوکریاں ان کی تعداد کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکومت چاہے بھی تو ہر نوجوان کو سرکاری ملازمت نہیں دے سکتی۔ ایسی صورت میں خود روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہی دانشمندانہ حکمت عملی ہے، اور ٹیوشن سینٹر اس کی بہترین مثال ہیں۔ اس شعبے کو محدود کرنے کے بجائے مزید وسعت دی جانی چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیم پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ دراصل مستقبل پر سرمایہ کاری ہوتا ہے۔ اگر ایک تعلیم یافتہ نوجوان شام کے چند گھنٹے بچوں کو پڑھا کر اپنی عزت کے ساتھ روزی کما رہا ہے تو وہ صرف اپنے گھر کا چولہا نہیں جلا رہا بلکہ آئندہ نسل کی علمی بنیاد بھی مضبوط کر رہا ہے۔ ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، کیونکہ وہ ریاست کا بوجھ نہیں بلکہ ریاست کے معاون ہیں۔
حکومت پنجاب اگر اس سمت میں ایک جامع منصوبہ شروع کرے تو اسے ’’شام کے تعلیمی مراکز‘‘ یا ’’ایوننگ لرننگ پروگرام‘‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ہر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کے سرکاری اسکول شام کے اوقات میں علم کے مراکز بن جائیں۔ صبح انہی کمروں میں اسکول کی کلاسیں ہوں اور شام کو وہی عمارتیں بچوں کی اضافی تعلیم، امتحانی تیاری، مقابلے کے امتحانات، زبانوں کی تعلیم، کمپیوٹر کورسز اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوں۔ اس سے نہ صرف نوجوان اساتذہ کو روزگار ملے گا بلکہ طلبا کو اپنے ہی علاقے میں معیاری تعلیمی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
یہ منصوبہ خواتین کے لیے بھی ایک نئی امید ثابت ہو سکتا ہے۔ ہزاروں پڑھی لکھی لڑکیاں محفوظ ماحول میں شام کے اوقات میں تدریسی خدمات انجام دے سکیں گی۔ والدین بھی اطمینان کے ساتھ اپنی بیٹیوں کو ایسے سرکاری تعلیمی اداروں میں بھیج سکیں گے جہاں بنیادی سہولیات پہلے سے موجود ہوں۔
ریاست کی کامیابی صرف قوانین بنانے میں نہیں بلکہ عوام کے لیے مواقع پیدا کرنے میں ہوتی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو بند دروازوں کو کھول سکتی ہے، خاموش عمارتوں کو علم کے مراکز میں بدل سکتی ہے اور بے روزگاری کو امید میں تبدیل کر سکتی ہے۔ پنجاب کے ہزاروں سرکاری اسکول ہر شام ایک نئے پاکستان کی بنیاد بن سکتے ہیں، جہاں عمارتیں صرف اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہ ہوں بلکہ نوجوانوں کے خوابوں، بچوں کے مستقبل اور خاندانوں کے روزگار کی علامت بن جائیں۔
آج ضرورت اس امر کی نہیں کہ روزگار کی چھتیں گرائی جائیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے سے موجود سرکاری چھتوں کو علم، امید اور روزگار کے چراغوں سے روشن کیا جائے۔ اگر حکومت پنجاب یہ ایک فیصلہ کر لے تو لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوانوں، ہزاروں خواتین اور کروڑوں طلبا کے مستقبل میں ایک مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔ شاید یہی وہ قدم ہو جو بے روزگاری کے اندھیروں میں روشنی کی ایک نئی کرن ثابت ہو۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔