نیویارک میں فلک بوس عمارت گرنے لگی؛ اسرائیلی قونصل خانہ خالی کرالیا گیا

1970 کی دہائی میں تعمیر ہونے والی ایک کمرشل عمارت کو ان دنوں پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس میں تبدیل کیا جا رہا ہے


ویب ڈیسک July 07, 2026

نیویارک میں آسمان کو چھوتی عمارت کے گرنے کا خدشہ پیدا ہونے پر خطرناک قرار دیکر اسرائیلی قونصل خانہ اور اسکول خالی کرا لیا گیا۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیویارک کے علاقے مڈ ٹاؤن مین ہٹن میں ایک بلند و بالا عمارت کے ستونوں میں خم پیدا ہونے اور اینٹیں گرنے کی اطلاعات کے بعد فوری طور پر اردگرد کا علاقہ خالی کرا لیا گیا تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔

فلک بوس عمارت کے گرنے کے خطرے کے پیش نظر آس پاس کی جن عمارتوں کو خالی کرایا گیا ہے ان میں ایک اسکول اور اسرائیلی قونصل خانے بھی شامل ہے۔ عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

نیویارک میں اسرائیل کے قونصل جنرل اوفیر اکنیس نے تصدیق کی کہ قریبی عمارت میں پیش آنے والے انفراسٹرکچر کے مسئلے کے باعث عملے اور آنے والے افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قونصل خانے کو فوری طور پر خالی کرایا گیا۔

اپنے بیان میں اسرائیلی قونصل جنرل کا مزید کہنا تھا کہ معمول کی سفارتی سرگرمیاں جلد بحال کرنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

مسئلہ کیا پیش آیا؟

نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ 1970 کی دہائی میں تعمیر ہونے والی ایک کمرشل عمارت کو ان دنوں پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس میں تبدیل کیا جا رہا ہے جس کے دوران بلڈنگ کے ڈھانچے کے کئی حصے کمزور ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

زوہران ممدانی بھی ایکشن میں آگئے

نیویارک کے پہلے مسلم میئر زوہران ممدانی نے بتایا کہ احتیاطی اقدامات کے تحت تقریباً 400 بچوں پر مشتمل ایک اسکول کو بھی فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ عمارت میں موجود تمام کارکن محفوظ طریقے سے باہر نکل آئے اور خوش قسمتی سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

اہم علاقے کو سیل کر دیا گیا

پولیس نے متاثرہ عمارت کے اطراف کی سڑکیں پیدل چلنے والوں اور ٹریفک دونوں کے لیے بند کر دیں۔ یہ عمارت کرائسلر بلڈنگ، گرینڈ سینٹرل ٹرمینل اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ہے اس لیے علاقے میں معمول کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔

تحقیقات جاری

انجینئرز اور تعمیراتی ماہرین عمارت کے ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ستونوں میں خرابی کیوں پیدا ہوئی اور آیا عمارت محفوظ ہے یا نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب تک عمارت کو مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جاتا احتیاطی اقدامات برقرار رہیں گے اور متاثرہ علاقے میں داخلے پر پابندی عائد رہے گی۔