کراچی:
ولیکا اسپتال میں بچوں کے ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے کے اسکینڈل میں مزید 17 ملازمین معطل کردیے گئے، وزیر محنت سندھ سعید غنی نے متاثرہ بچوں کے علاج و فلاح کے لیے 2 ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا۔
کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے معاملے پر سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) نے محکمہ جاتی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے مزید 17 نرسنگ اسٹاف کو معطل کردیا۔ سیسی کے نوٹیفکیشن کے مطابق معطل ملازمین میں ایک میٹرن، ایک نرسنگ سسٹر، 9 اسٹاف نرسز اور 6 نرس ایڈز شامل ہیں، تمام معطل ملازمین کو فوری طور پر سیسی ہیڈ آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ان کے خلاف عائد الزامات پر الگ سے شوکاز نوٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق انکوائری مکمل ہونے تک محکمہ جاتی کارروائی جاری رہے گی۔ اس سے قبل اسی کیس میں دو ڈاکٹرز کو معطل جبکہ ایک ڈسپنسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ تازہ معطلیوں کے بعد کارروائی کی زد میں آنے والے ملازمین کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے جبکہ ابتدائی طور پر 37 افسران اور ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
دریں اثنا وزیر محنت سندھ سندھ سعید غنی نے اعلان کیا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے علاج، ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ، طبی نگہداشت، تعلیم اور دیگر فلاحی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2 ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا جا رہا ہے، تاکہ متاثرہ بچوں کو طویل المدتی مالی اور طبی معاونت فراہم کی جا سکے۔
واضح رہے کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی کا پہلا کیس اکتوبر 2025 میں سامنے آیا تھا، جس کے بعد مرحلہ وار تحقیقات میں متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ اب تک مجموعی طور پر 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، معاملہ اس وقت سندھ ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے، جہاں عدالت صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور متاثرہ بچوں کے علاج سے متعلق پیش رفت طلب کر چکی ہے۔
کیس کی آئندہ سماعت 22 جولائی کو مقرر ہے، جس میں تحقیقاتی رپورٹ اور حکومتی اقدامات کا جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔