بنگلادیش کے ضلع کاکس بازار میں واقع روہنگیا مہاجر کیمپ شدید مون سون بارشوں کے دوران پیش آنے والے افسوسناک حادثے کا شکار ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش کے جنوب مشرقی ضلع کاکس بازار میں قائم روہنگیا مہاجر کیمپ میں شدید بارشوں کے دوران ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں ایک مدرسہ آگیا۔
مٹی کا تودا گرنے سے مدرسے کی عمارت منہدم ہوگئی اور متعدد بچے منوں مٹی تلے دب گئے۔ مسلسل بارش اور خراب موسم کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا رہا۔ ملبے سے 8 بچوں کی لاشیں نکالی گئیں جب کہ 5 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
مسلسل مون سون بارشوں نے کاکس بازار کے پہاڑی علاقوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں کئی روہنگیا مہاجر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ان مہاجر کیمپوں میں مقیم زیادہ تر خاندان بانس، لکڑی اور ترپال سے تیار کردہ عارضی جھونپڑیوں میں رہائش پذیر ہیں جو شدید بارش، تیز ہواؤں اور مٹی کے تودے گرنے جیسے خطرات کے سامنے انتہائی غیر محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں نے حساس مقامات پر رہنے والے خاندانوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے جب کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک مزید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
واضح رہے کہ 2017 میں میانمار کی ریاست رخائن میں فوجی کارروائیوں کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمان جان بچانے کے لیے بنگلادیش منتقل ہوئے تھے اور کاکس بازار کے مختلف مہاجر کیمپوں میں تقریباً 12 لاکھ روہنگیا پناہ گزین مقیم ہیں۔