سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے ایگزیکٹیوز اور اسٹاف کو خلاف ضابطہ ایک ارب 60 کروڑ روپے سے زائد بونس کی مد میں دیے جانے سے متعلق آڈٹ اعتراض کے معاملے پر کمیٹی نے معاملہ آئندہ کے لیے موخر کرتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں۔ایس این جی پی ایل کے 11کروڑ روپے سے زائد کی چائے،کافی اور کلب ممبر شپ کے اخراجات کا معاملہ نمٹا دیا۔
پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نوید قمر کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے مالی معاملات اور آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کے افسران کو دیے گئے بونسز اور دیگر اخراجات سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) نے 2014 سے 2017 کے دوران خسارے کے باوجود کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سمیت اعلیٰ حکام اور ملازمین میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کے بونس تقسیم کیے، جس پر آڈٹ نے اعتراض اٹھایا۔
اس موقع پر نوید قمر نے کمپنی حکام سے سخت سوالات کیے، تاہم حکام تسلی بخش جواب نہ دے سکے،اجلاس میں کمپنی کے کلیدی کارکردگی اشاریوں (KPIs) پر بھی بحث ہوئی۔ نوید قمر نے استفسار کیا کہ کمپنی کے KPIs کیا ہیں، جس پر حکام نے بتایا کہ گردشی قرضے کم کرنا، بورڈ اجلاس بروقت منعقد کرنا اور دیگر انتظامی اہداف ان میں شامل ہیں۔
اس پر نوید قمر نے ریمارکس دیے کہ “گردشی قرضہ کم کرنا آپ کے اختیار میں نہیں، اس لیے اسے بڑی کارکردگی قرار نہیں دیا جا سکتا۔” انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں KPIs کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔
دوسری جانب سوئی ناردرن گیس (SNGPL) کے 2018 کے آڈٹ کا جائزہ لیتے ہوئے انکشاف ہوا کہ کمپنی نے چائے، کافی، کلب ممبرشپ اور ہیومن ریسورس اخراجات کی مد میں 11 کروڑ روپے خرچ کیے۔ آڈٹ حکام کے مطابق ان اخراجات میں حج اور طویل سروس سے متعلق ادائیگیاں بھی شامل تھیں، جن پر اعتراض اٹھایا گیا۔
نوید قمر نے اخراجات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “یہ آخر کیسی چائے اور کافی تھی جس پر اتنی بڑی رقم خرچ ہوگئی؟ کم از کم کلب ممبرشپ کا خرچ تو سرکاری خزانے پر نہیں ڈالنا چاہیے۔