آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی زندگی میں ہی وصیت کردی تھی کہ انھیں حضرت امام رضاؑ کے جوار میں دفن کیا جائے اور شہادت کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے بھی اسی خواہش کی تائید کی جس کے بعد حکومت نے تدفین کے لیے مشہد کا انتخاب کیا۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں حضرت امام رضاؑ کے روضہ مبارک کے قریب کیے جانے کا فیصلہ صرف ایک خاندانی خواہش یا وصیت نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہری مذہبی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت بھی موجود ہے۔
مشہد صدیوں سے اہلِ تشیع کے لیے دنیا کے مقدس ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال کروڑوں زائرین یہاں حاضری دینے آتے ہیں۔
مشہد کیوں منتخب کیا گیا؟
مشہد وہ شہر ہے جہاں آٹھویں امام علی بن موسیٰ الرضا کا مزار ہے جو شیعیت میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں اور مشہد ان کی جائے شہادت کے باعث پوری دنیا میں زائرین کی توجہ کا مرکز بھی ہے۔
امام رضاؑ کون ہیں؟
حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام اہلِ تشیع کے آٹھویں امام ہیں۔ آپ 818ء (203 ہجری) میں خراسان میں شہید ہوئے اور موجودہ مشہد میں مدفون ہیں۔
ان کی تدفین تو اس وقت کے غیر آباد بیابان میں کی گئی تھی لیکن ان کی قبر کے گرد ہی آہستہ آہستہ آبادی ہونا شروع ہوئی اور ایک عظیم الشان شہر وجود میں آگیا جسے آج دنیا بھر میں مشہدِ مقدس کے نام سے جانا جاتا ہے۔
لفظ مشہد کا مطلب ہی شہادت کی جگہ یا جائے مدفنِ شہید ہے۔
مذہبی اہمیت
شیعیت میں مکہ، مدینہ، نجف اور کربلا کے بعد مشہد کو مقدس ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایران، عراق، پاکستان، بھارت، افغانستان، لبنان، آذربائیجان، بحرین اور خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر سے لاکھوں زائرین سال بھر یہاں آتے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق سالانہ دو کروڑ سے زائد افراد حضرت امام رضاؑ کے روضے کی زیارت کرتے ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی زائرین کی ہوتی ہے۔
صرف ایک مزار نہیں، ایک مکمل شہر
امام رضاؑ کا روضہ تقریباً 60 ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ایک عظیم مذہبی کمپلیکس ہے، جس میں متعدد صحن، مساجد، لائبریریاں، عجائب گھر، مدارس، عبادت گاہیں اور تاریخی عمارتیں شامل ہیں۔
اس کمپلیکس میں دنیا کے قدیم ترین قرآن میوزیمز میں سے ایک بھی موجود ہے جہاں اہلِ بیتؑ اور دیگر ائمہ سے منسوب نایاب قرآنی نسخے محفوظ کیے گئے ہیں۔
ایران کی معیشت میں بھی اہم کردار
مشہد صرف مذہبی مرکز ہی نہیں بلکہ ایران کی معیشت کا بھی ایک اہم ستون ہے۔ زائرین کی آمد سے ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، تجارت اور مقامی کاروبار کو اربوں ڈالر کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔
حرم کے اطراف سینکڑوں ہوٹل، سرائے، بازار اور تجارتی مراکز قائم ہیں جبکہ شہر کی معیشت کا بڑا حصہ مذہبی سیاحت سے وابستہ ہے۔
خامنہ ای کی تدفین کی عالمی اہمیت
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں 45 سے زائد ممالک کے سرکاری وفود جبکہ درجنوں ممالک کے مذہبی رہنما، علماء اور اہم شخصیات شریک ہوئیں۔
پاکستان، عراق، افغانستان، بھارت، لبنان، آذربائیجان، بحرین اور دیگر ممالک سے بھی زائرین بڑی تعداد میں مشہد پہنچے تھے۔
مذہبی اور سیاسی علامت
آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین امام رضاؑ کے روضے کے قریب ہونا صرف ایک مذہبی روایت نہیں بلکہ ایران کی سیاسی اور مذہبی شناخت کی بھی علامت ہے۔
اس فیصلے کے ذریعے ایرانی قیادت نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ملک کی مذہبی قیادت اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی بدستور ایرانی ریاست کی بنیادی شناخت کا حصہ ہے۔