ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر کنارک، صوبہ بوشہر اور بندرعباس کے اطراف متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق رات گئے سب سے پہلے صوبہ سیستان و بلوچستان کے ساحلی شہر کنارک میں تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
دھماکوں کی نوعیت وجوہات اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کوئی باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
بوشہر میں بھی دو دھماکے
اسی دوران بوشہر اور اس کے نواحی علاقے میں بھی دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جہاں دو روز سے امریکا نے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
یہ وہی صوبہ ہے جہاں ایران کا واحد فعال جوہری بجلی گھر واقع ہے اور گزشتہ دو روز کے دوران امریکی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
اگرچہ ایرانی حکام نے فوری طور پر ان دھماکوں کی نوعیت واضح نہیں کی تاہم مقامی میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز اور امدادی ادارے مختلف مقامات پر پہنچ گئے ہیں۔
بندرعباس میں بھی دھماکوں کی اطلاعات
ایران کے خلیج فارس کے اہم بندرگاہی شہر بندرعباس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ بندرعباس ایران کی بحری اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز تصور کیا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس کی عسکری اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بندرعباس میں دھماکے فضائی حملوں، دفاعی نظام کی کارروائی یا کسی اور وجہ سے ہوئے۔
دھماکوں پر ایرانی حکومت کا بڑا دعویٰ
بوشہر کے گورنر نے بتایا کہ دھماکوں کی آواز نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل کو ایرانی فضائی دفاعی نظام کے فضا میں تباہ کرنے سے پیدا ہوئی تھی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سیستان و بلوچستان کے گورنر محمد یونس حقانی نے بتایا کہ بحری فوجی علاقے میں دو زور دار دھماکے سنے گئے اور جنگی طیاروں نے دو الگ مراحل میں حملہ کیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ واقعے کے فوری بعد امدادی، سکیورٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جبکہ حملے کی نوعیت اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب الجزیرہ سے گفتگو میں ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ حالیہ چند گھنٹوں میں امریکی افواج نے ایران میں کسی بھی مقام کو نشانہ نہیں بنایا۔
مسلسل تیسرے روز کشیدگی برقرار
خیال رہے کہ گزشتہ دو راتوں کے دوران امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں خصوصاً جنوبی ساحلی پٹی میں متعدد فضائی حملے کیے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض حملے شہری انفراسٹرکچر، ریلوے پلوں اور بوشہر کے اطراف تک پہنچے۔
ادھر ایران نے بھی ان حملوں کے جواب میں قطر، بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔