سندھ حکومت کا فیسوں میں اضافہ کرنے والے نجی اسکولوں کی رجسٹریشن ختم کرنے کا عندیہ

چند ادارے منظور شدہ فیس کے علاوہ اضافی اور پوشیدہ چارجز بھی لے رہے ہیں، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز


عائشہ خان July 10, 2026
(فوٹو : فائل)

سندھ حکومت نے صوبے میں نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے خلاف ورزی پر رجسٹریشن معطل یا منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ پروفیسر رفیعہ ملاح نے نجی اسکولوں کی جانب سے فیسوں میں اضافے اور اضافی چارجز کی وصولی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام نجی اسکولوں کے سربراہان کو مراسلہ جاری کر دیا۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ محکمے کو شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض نجی اسکول والدین سے رجسٹریشن اتھارٹی کی جانب سے منظورشدہ ٹیوشن فیس سے زائد رقم وصول کر رہے ہیں جبکہ بعض ادارے منظور شدہ فیس کے علاوہ اضافی اور پوشیدہ چارجز بھی لے رہے ہیں۔

مراسلے کے مطابق تمام نجی اسکولوں کے منتظمین اور پرنسپلز کو آگاہ کیا گیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس کے علاوہ کسی بھی قسم کی فیس وصول کرنا سندھ پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005ء کے رول 7(4) کی صریح خلاف ورزی ہے جس کے تحت ٹیوشن فیس کے علاوہ کوئی بھی فیس صرف رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بعد ہی وصول کی جا سکتی ہے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ رول 7(6) کے مطابق قواعد کے برخلاف ٹیوشن فیس وصول کرنا یا رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس کے علاوہ کوئی اور فیس لینا سندھ پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز ریگولیشن اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2001ء کی دفعہ 21 کے تحت قابلِ سزا جرم ہے جس کی صورت میں متعلقہ ادارہ جرمانے کا مستوجب ہو گا۔

پروفیسر رفیعہ ملاح نے تمام نجی اسکولوں کے منتظمین اور پرنسپلز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ طلبہ سے صرف وہی فیس وصول کریں جو رجسٹریشن اتھارٹی سے منظور شدہ ہو، منظور شدہ فیس کی تفصیلات اسکول کے نوٹس بورڈ اور استقبالیہ (ریسپشن) پر نمایاں طور پر آویزاں کی جائیں اور والدین کے مطالبے پر انہیں اس کی نقل بھی فراہم کی جائے تاکہ والدین اور طلبہ منظور شدہ فیس سے مکمل طور پر آگاہ رہیں۔

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ والدین سے منظور شدہ فیس کے علاوہ کسی بھی قسم کے پوشیدہ یا اضافی چارجز کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی اسکول مذکورہ ہدایات کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس کی شق 8 کے تحت رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی معطلی یا منسوخی (Suspension or Cancellation of Registration Certificate) سمیت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید برآں، تمام غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی طور پر چلنے والے اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر اپنی رجسٹریشن کے لیے درخواستیں sboss.business.gos.pk پر آن لائن جمع کروائیں۔

مراسلے میں تمام افراد، اداروں اور سوسائٹیز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اسکول قائم کرنے سے قبل محکمہ اسکول ایجوکیشن حکومت سندھ کی جانب سے مقرر کردہ تمام سہولتوں اور معیار کو مدنظر رکھیں اور ان کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔ واضح کیا گیا ہے کہ مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے والے اسکولوں کو کسی صورت رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا جبکہ ایسے اسکولوں کو بند کروانے کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو درخواست دی جائے گی اور وہاں زیر تعلیم طلبہ کو قریبی اسکولوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔