بوشہر جوہری پلانٹ؛ پوٹن کسی کو خاطر میں نہ لائے؛ روس کا ایران کی حمایت میں بڑا اقدام

ان ماہرین کو امریکا ایران جنگ کے باعث روس نے واپس بلالیا تھا


ویب ڈیسک July 10, 2026

گزشتہ دو روز سے جاری امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے ثالث ممالک کی سفارتی کوششوں سے تھم گئے ہیں اور اس دوران روس نے ایران کی حمایت میں بڑا اعلان کردیا۔

روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کے مطابق روس نے ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر کام کرنے والے اپنے ماہرین اور ملازمین کی مرحلہ وار واپسی کا آغاز کر دیا ہے جنھیں امریکا اسرائیل حملوں پر واپس بلالیا تھا۔

روسی سرکاری جوہری توانائی کمپنی روساٹوم کے چیف ایگزیکٹو الیکسی لیخاچیف نے بتایا کہ بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے پہلے 6 روسی ملازمین ایران کے پلانٹ پر واپس پہنچ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ روسی جوہری توانائی کمپنی روساٹوم ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ میں دو نئے ری ایکٹر یونٹس کی تعمیر کر رہا ہے اور اس سلسلے میں روسی ماہرین ایرانی پلانٹ میں مقیم تھے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر فوجی حملوں کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر روسی کمپنی نے اپنے ماہرین اور عملے کو ایرانی جوہری پلانٹ سے واہس بلالیا تھا۔

روسی جوہری کمپنی کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے بتایا کہ موجودہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ملازمین کی واپسی کا فیصلہ سیکیورٹی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

اگرچہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے لیکن روسی عملے کی واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں آنے والی نسبتاً کمی کے بعد بعض اہم منصوبوں پر معمول کی سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں۔

واضح رہے کہ بوشہر جوہری پاور پلانٹ ایران کا واحد فعال ایٹمی بجلی گھر ہے جس کی تعمیر اور توسیع میں روس کئی برسوں سے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس منصوبے کو ایران کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔